سعودی ریاست کے پہلے خیراتی ادارے کی پائیدار میراث

شہزادی موضی بنت سلطان کے نام پر قائم کمیونٹی سنٹر کی کئی خدمات ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

شہزادی موضی بنت سلطان بن ابی وھطان اولین سعودی ریاست کی مشہور شخصیات میں سے ایک تھیں۔ وہ اپنی انسان دوستی، سخاوت اور تعلیم سے وابستگی کے لیے مشہور تھیں۔ انہوں نے اپنے فلاحی کاموں کے ذریعے کئی لوگوں کی زندگیوں کو متأثر کیا۔

درعیہ گیٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ریسرچ مینجمنٹ ایند ویلیڈیشن کے سینئر مینیجر فیصل العامر نے عرب نیوز کو بتایا، "جزیرہ نما عرب کی تاریخ کی بھرپور تانے بانے میں چند ہی شخصیات اتنے نمایاں مقام پر ہیں جتنا کہ شہزادی موضی بنت سلطان جو درعیہ اور سعودی عرب کی بااثر ترین خواتین میں سے ایک ہیں۔ 1727 میں اولین سعودی ریاست کے قیام کے دوران شہزادی موضی کا اثر ٹھوس اور تبدیلی آمیز تھا۔"

اولین سعودی ریاست کے بانی امام محمد بن سعود کی اہلیہ اور ریاست کے دوسرے امام، امام عبدالعزیز کی والدہ کے طور پر شہزادی موضی کا اثر و رسوخ ان کے خاندانی کردار سے کہیں زیادہ بڑھ کر تھا۔ ان کی میراث اور اثر و رسوخ سبالۃ موضی کے نام سے مشہور کمیونٹی سنٹر کی تاریخ میں زندہ ہے جس کی وہ سرپرست تھیں۔

العامر نے کہا کہ معاشرے کے تمام طبقات بالخصوص مسافروں اور درعیہ میں ضرورت مندوں نے ان کی پیش کردہ خیرات سے فائدہ اٹھایا۔

انہوں نے مزید کہا، "شہزادی موضی نے تعلیمی اقدامات میں بھی فعال تعاون کیا اور وہ "اپنے غیر معمولی مذہبی علم اور اسلامی قانون کی گہری فہم کے لیے مشہور تھیں۔ اس تصور کو چیلنج کرتے ہوئے کہ تعلیم صرف مردوں کے زیرِ تسلط ہے، انہوں نے اولین سعودی ریاست کے دوران ابتدائی تعلیم کے فروغ میں ایک اہم کردار ادا کیا۔"

سبالۃ موضی ایک "تعلیم کے مرکز" کے طور پر سامنے آیا جس نے جزیرہ نما عرب سے باہر کے طلباء کو بھی درعیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے تھے۔

العامر نے کہا، "ایک مخصوص خصوصیت اس کی جنوبی مسجد تھی جو نہ ایک صرف عبادت گاہ بلکہ مذہبی تعلیم کے ایک مرکز کا بھی کام کرتی تھی۔"

اس مرکز نے طلباء کے لیے کتابیں اور مخطوطات کے ساتھ ساتھ یہاں آنے والے علماء کے متنوع گروپ کے لیے مالی امداد اور رہائش جیسے وسائل بھی فراہم کیے تھے۔ اولین سعودی ریاست کے دارالحکومت اور شاہی رہائش گاہ ضلع الطریف کے اندر اس کا مقام سعودی معاشرے میں اس کے ادا کردہ اہم کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

العامر نے کہا، "سبالۃ موضی نے "سخاوت، ضرورت مندوں کے لیے ہمدردی، سماجی ہم آہنگی اور مضبوط برادری کے رشتوں کی پرورش جیسی پائیدار اقدار کی مثال قائم کی جو سعودی معاشرے کے قیام سے لے کر آج تک اس کا خاصہ ہیں۔"

اپنے خیراتی کارناموں کے علاوہ شہزادی موضی اپنے شوہر امام محمد کی قریبی ساتھی بھی تھیں۔

العامر نے کہا، "ریاست کے قیام کے دوران ان کا کردار ناقابلِ تردید طور پر اہم تھا کیونکہ انہوں نے ثابت قدم حمایت اور قابلِ قدر مشورے فراہم کیے تھے۔ امام محمد بن سعود کی خصوصی مشیر کے طور پر ان کی حیثیت سعودی ریاست کے مشکل تشکیلاتی دور میں خاص طور پر اہم ثابت ہوئی۔"

انہوں نے مزید کہا، ان کی رہنمائی نے "عبدالعزیز کی قائدانہ خصوصیات کو ڈھالنے میں اہم کردار ادا کیا اور ایک حکمران کے طور پر ان کے کردار پر دیرپا اثر مرتب کیا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں