جو یہ سوچتے تھے کہ سعودی عرب کا نیوم سٹی پراجیکٹ تکمیل سے بہت دور ہے ان کے لیے 'العربیہ' نے نیوم سٹی کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ مرتب کی ہے۔ جو یہ حقیقت ظاہر کر رہی ہے کہ زیر تعمیر نیوم شہر میں کام کرنے والے ہزاروں کارکن اس امر کا اظہار ہیں کہ نیوم شہر اب آنکھوں سے زیادہ دیر دور نہیں رہ سکے گا اور یورپی ملک بیلجیئم کے سائز کے ایک بڑے شہر کی صورت شاندار عمارتوں، جدید طرز تعمیر، ماحولیاتی آلودگی سے پاک، آسائش سے مزین اور فطرت کے نظاروں سے بھرپور یہ شہر جلد سعودی عرب کی سرزمین پر ہر ایک کو اپنی طرف کھینچ رہا ہوگا۔
ایک انسانی ساختہ کمیونٹی جس نے دنیا کا ایک انتہائی خوبصورتی و پرجوشی پر مبنی منصوبہ تیار کیا ہے۔ جس میں ہزاروں پہاڑوں کو اس کے بنیادی فیچر کے طور پر نہ صرف برقرار رکھا گیا ہے بلکہ اس کو ڈیزائن اس طرح کیا گیا ہے کہ پہاڑ اس ڈیزائن کا اور ڈیزائن ان پہاڑوں کا حصہ بن گیا ہے۔
بڑے بڑے لاجز سٹائل کے کیبنز، اونچی عمارات پر شاندار پینٹ ہاؤس فلیٹس اور پرآسائش رہائش گاہوں، حتیٰ کہ سکولوں، طبی مراکز، جمز، ریستوران اور کھیلوں کے لیے بنائی گئی کورٹس بشمول سویمنگ پولز ہر سہولت و آسائش بدرجہ اتم موجود ہوگی۔
یہ ان کا سب سے پہلا رہائشی مرکز 'نیوم کمیونٹی 1' 107 پرگھروں پر مشتمل ہوگا۔ یہ تین رہائشی کمیونیٹیز میں سے ایک ہوگا۔ تینوں رہائشی کمیونیٹیز میں 7500 لوگ رہتے ہیں جبکہ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ نمبر بڑھ کر 8000 تک اس سال کے اختتام تک ہوجائے گا۔
مزید یہ کہ دسیوں ہزار کارکنوں کے ذریعے ہونے والی تعمیرات 26500 مربع کلومیٹر تک جاری ہیں اور یہ افرادی قوت 15 شعبوں میں تقسیم ہے۔ جن میں 3 ذیلی علاقے شامل ہیں جو 5 ریجنز تک چلے جاتے ہیں۔ دی لائن ، تروجینا ماؤنٹین ریزورٹ، اوگزاگن اور میگنا یہ سب نیوم کے جزیرے ہیں۔
دن رات کام جاری ہے تاکہ نیوم کے اس میگا پراجیکٹ کو آگے بڑھایا جا سکے جس میں ہیلتھ کیئر، فنانس، میڈیا اور کیٹرنگ، ٹرانسپورٹ کے شعبوں کے لیے کام کرنے والے کارکن بھی شامل ہیں اور دوسرے بہت سے بھی۔
ترقیاتی تیز رفتاری
'این سی 1' کے شروع کے رہائشیوں میں سے ایک نتاشا مارٹن ہیں۔ وہ اپنے شوہر میٹ کے ساتھ 2021 میں یہاں منتقل ہوئیں۔ وہ سیاحتی شعبے میں سیاحوں کے تجربات کو مانیٹر کرنے کے لیے ایک ڈائریکٹر کے طور پر کام کر رہی ہیں۔
شروع میں انہیں ملازمت کے مواقع کے لیے دوسری جگہ جانا پڑا۔ جب ان کے شوہر اپنے بیٹے تھیو کے ساتھ ریاض میں تھے۔ تاہم بعد میں وہ نیوم شہر میں ایسی ملازمت کرنے والی خاتون بن گئیں جن کے بچے کی یہیں پیدائش ہوئی جو اب 2 سال کا ہے۔
'میں یہاں پہلی خاتون کارکن ہوں جس نے یہاں رہتے ہوئے ایک بیٹے کو جنم دیا۔ میرے بیٹے کی پیدائش کے وقت یہاں کوئی ہسپتال نہیں تھا۔ اس لیے مجھے ریاض جانا پڑا۔ لیکن اب نیوم میں ہزاروں بچے رہ رہے ہیں۔' مارٹن نے 'العربیہ' سے بات کرتے ہوئے کہا۔
نیوم میں جاری ترقیاتی عمل تیزی سے خاندانوں اور دوستوں کی کمیونٹی میں تبدیل ہو رہا ہے۔
'یہاں ہر سہولت جس تک آپ جانا چاہتے ہیں 2 سیکنڈز میں میسر ہو جاتی ہے۔ ان میں بچوں کے سکول ، بچوں کے فٹبال کھیلنے کے گراؤنڈ اور ہسپتال سمیت ہر چیز 5 منٹ کے پیدل چلنے کے فاصلے تک ہے۔ '
نیوم شہر کا طرز زندگی اس کے ابتدائی دنوں سے ہی نمایاں طور پر پھیل رہا ہے۔
مارٹن نے کہا 'اس میں فیملیز اور دوستوں کے ساتھ رہنے کے لیے 2 بیڈ رومز پر مشتمل کیبن ہیں۔ علاوہ ازیں فٹبال کا ایک پورا پروگرام ہے تاکہ بچے سیکھ اور کھیل سکیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے سہولتوں نے یہاں کی کمیونٹی میں اضافے کو تیز تر کر دیا ہے۔
مارٹن کے خاندان کے لیے نیوم میں اس کی رہائش کے آس پاس تفریحی مواقع کی موجودگی منفرد حیثیت کی حامل ہے۔ وہ کہتی ہیں 'ہر ہفتے کے اختتام پر ہم گھر سے باہر ساحل کی طرف جاتے ہیں۔ ہر ہفتے کے اختتام پر ایک دن ساحل کے نام ہوتا ہے۔ جہاں ہم دن بھر کیمپنگ کرتے ہیں اور فطرت کے نظارے دیکھتے ہیں۔'
مصنوعی ذہانت سے لیس حفاظتی نظام
شہریوں کی آسائش سے بھی زیادہ بڑھ کر جو چیز نیوم کو منفرد کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اس شہر میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیا گیا جدید حفاطتی نظام متعارف کرایا گیا ہے۔
شہر نیوم میں یہاں کے رہائشیوں کی حفاظت کے لیے 'کمانڈ اینڈ کنٹول سینٹر' قائم کیا گیا ہے۔ یہ بات 'العربیہ ' سے اپنے خصوصی انٹرویو میں نیوم پبلک سیفٹی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر عادل عبدالوھیب نے بیان کی۔
ان کا کہنا تھا کہ نیا قائم کردہ 'کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر' ہنگامی ضرورتوں کے پورا کرنے کے علاوہ معمول کی خدمات بھی انجام دیتا ہے اور یہ سب کچھ حکومتی اداروں کی ایک چھت کے نیچے ہے۔
ان کے مطابق اس طرح کا منفرد شہری تحفظ کا نظام دنیا میں کہیں اور پہلے سے موجود نہیں ہے۔ ہم اس شعبے میں منفرد ہیں اور یہی چیز ہمیں دنیا بھر میں منفرد کرتی ہے۔ اس راستے سے ہم سمارٹ سٹیز کو کنٹرول کر رہے ہیں۔
عبدالوھیب نے 'العربیہ' کو بتایا 'کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر' مصنوعی ذہانت کی مدد سے اپنے سسٹم کو مؤثر بنائے ہوئے ہے۔ علاوہ ازیں 'آئی او ٹی سینسرز' کسی بھی ممکنہ خطرے کی پہلے سے نشاندہی کر دیتے ہیں۔ یہ نشاندہی تحفظ کی دیگر ضرورتوں کے علاوہ آگ لگنے کے خطرے کے پس منظر میں ہوتی ہے۔ یہ نظام بظاہر نظر نہ آنے والا ہے لیکن ہمہ وقت اور ہر جگہ فعال و مستعد ہے۔
عبدالوھیب نے مزید کہا 'ہم روایتی طور پر سیکیورٹی کے اس نظام کو کاروباری مقاصد یا کمائی کے لیے استعمال نہیں کر رہے۔ بلکہ ہم نہ صرف یہ کہ ہنگامی صورتحال میں اپنا فوری رسپانس دے کر ان کا تدارک کرتے ہیں بلکہ ہم کسی بھی ممکنہ ایمرجنسی کی پہلے سے پیش گوئی بھی کرتے ہیں۔ تاکہ نیوم کے شہریوں کو قبل از وقت اپنی حفاظت کے لیے متوجہ کر سکیں۔'
انہوں نے 'العربیہ' کو مزید بتایا 'مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایک 'برین سسٹم' تیار کیا گیا ہے۔ جو کیمرہ کی فراہم کردہ تصاویر اور ویڈیوز کی بنیاد پر تجزیہ کرتا ہے اور ایسے واقعات کا تعاقب کرتا ہے جن کے ہونے کا خطرہ ہو۔ حتیٰ کہ وہ کسی سکوٹر سوار کے غیرمناسب ہیلمٹ کے استعمال کے بارے میں بھی نشاندہی کی صلاحیت رکھتا ہے اور وہ ٹریفک کے دوران ہجوم کے انداز اور حجم کے بارے میں بھی اگلے 7 دنوں کی پیش گوئی کر سکتا ہے۔'
عبدالوھیب نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی اس سہولت سے ہمیں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔ یہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی ہمیں فیصلے کرنے میں بھی مدد دیتی ہے اور انسانی بنیادوں پر ہونے والی غلطیوں سے بھی اس طرح ہم بچ جاتے ہیں۔ ہمارا یہ کمانڈ سینٹر اس پورے علاقے میں 'ٹریفک سیفٹی سسٹم' کے حوالے سے پہلا مصنوعی ذہانت کے استعمال پر مشتمل ہے۔ اس میں 120 سمارٹ گیٹس ہیں۔ جو ہائی ویز کو مانیٹر کرتے ہیں جو نیوم کو جانے والی ہیں۔ حتیٰ کہ میری ٹائم سیکیورٹی کے شعبے کے ساتھ بھی کوآرڈینیشن کے ذریعے 'الکٹرانک ویسل ٹریکنگ' کی جاتی ہے۔
ڈیجیٹل ماڈل مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہنگامی ردعمل کے تحت کام کرتا ہے۔ جس میں الیکٹرانک انخلاء اور جواب دہندگان کے لیے بہترین راستوں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ نیز ہیلی کاپٹر اور ہنگامی خدمات کی فراہمی کی جاتی ہے۔ عبدالوھیب نے کہا 'پوری دنیا میں اس طرح کا نظام موجود نہیں ہے۔ اس کا کسی چیز سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ '
'کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر' ڈرونز کی تعیناتی اور جدید تر ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے اپنی صلاحیت بڑھا رہا ہے۔ عبدالوھیب نے کہا ' 'لیبارٹری میں تجربات کے ذریعے ہم جان رہے ہیں کہ کیسے ان کاموں کو کیا جا سکتا ہے۔ '
ان تجربات میں حالیہ پیش رفت کے تحت ڈرونز کی ہنگامی صورتحال میں کام کرنے کی صلاحیت بھی شامل ہے۔ عبدالوھیب نے بتایا کہ اس سے پہلے ہنگامی بنیادوں پر مصنوعی ذہانت کا استعمال نہیں کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا 'نیوم شہر کے رہائشی اسے محسوس کر رہے ہیں کیونکہ وہ اس کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ نیوم شہر میں پیدل سفر کر رہے ہیں، کیمپنگ اور جاگنگ کر رہے ہیں۔ یہ سہولیات شہریوں کے آرام دہ زندگی گزارنے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ '
نیوم کمیونٹی
'اوگزاگن' میں نیوم کمیونیٹیز بشمول نیوم کے میگا انڈسٹریل سٹی اور پہاڑوں میں گھرے تروجینا ریزورٹ تینوں میں ایک جیسی کمیونیٹیز قائم کی گئی ہیں جنہیں پرتعیش جگہیں فراہم ہیں تاکہ وہ یہاں رہ سکیں اور کام کر سکیں۔
ان میں ایک نیوم کی انتہائی پہلی رہنے کی جگہ 'این سی1' ہے۔ جو نیوم کے کلیدی کارکنوں کے رہنے اور کام کی جگہ ہے۔ یہ نیوم سٹی کے انتہائی چھوٹی بستیوں کے حوالے سے خدمات انجام دیتی ہیں جو کثیر الثقافت ہیں اور جدید ترین ٹیکنالوجی کی بنیاد پر آگے بڑھ رہی ہیں۔
بہت سارے نیوم کے ان تعمیراتی مقامات پر موجود کارکنوں کی صورت میں ہیں جہاں بھاری مشینری آسمانوں کو چھو لینے والی 'دی لائن' کی بنیادوں کو تشکیل دے رہے ہیں۔ ان میں انجینیئرز اور آرکیٹیکٹ کی ٹیمیں بھی موجود ہیں۔ جو جدید دفاتر میں بیٹھ کر خطے کے لیے نئے مستقبل کی نقشہ کشی کر رہے ہیں۔
حماد السلیمان نیوم سٹی کے پہلے چند رہائشیوں میں سے ہیں۔ وہ آپریشنز کے شعبے کے سینیئر ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہیں۔ نیوم کے عمودی پھیلاؤ کے بارے میں ان کا کہنا ہے 'یہ اس کمٹمنٹ کا اظہار ہے کہ قدرتی لینڈ سکیپ کوزیادہ سے زیادہ محفوظ رکھا جا سکے اور بلڈنگز کو فلک بوس بنا دیا جائے۔ اس کے نتیجے میں زمین کا صرف 5 فیصد حصہ عمارتوں کے لیے استعمال ہوگا۔'
نیوم کی کمیونٹی قائم کرتے ہوئے اس کی پائیداری اور چیزوں کو ری سائیکل کرنے سے متعلق فیچر کے اعتبار سے بطور خاص دیکھا جا رہا ہے۔ تاکہ گھریلو استعمال کی ضائع شدہ چیزوں کو بھی ری سائیکل کرتے ہوئے آلودگی سے بھی بچا جائے اورقابل استعمال بھی رکھا جائے۔
انسانی نجی زندگی اور کام میں توازن
نیوم شہر میں انسانی نجی زندگی اور کام میں توازن کو شروع سے ہی ایک ترجیح کے طور پر سامنے رکھا گیا ہے۔
حماد السلیمان کا کہنا تھا 'شروع میں ہی اس پر غور کیا گیا کہ تعمیراتی مقامات پر چند مہینوں میں ہی ہماری کمیونیٹیز کو آباد ہو جانا چاہیے۔ تاکہ آپ اپنے کام کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی اور خاندانوں کا خیال رکھ سکیں، اپنے بچوں کو دیکھ سکیں۔ ہم نے اس کا اہتمام کیا کہ دفتروں سے باہر لوگ باہم مل سکیں۔ کافی شاپ پر اکٹھے ہو سکیں اور ایک مختلف ثقافت کی تشکیل کر سکیں نہ کہ محض ایک کارخانے کا سا ماحول بن کر رہ جائے۔ '
کئی لوگوں کو ہم نے یہ کہتے سنا کہ وہ اپنے بچوں اور اہل خانہ سے ہر روز ملنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے ہفتہ یا مہینے کا انتظار نہیں کر سکتے۔ اس لیے یہاں ان کے لیے گھر بنائے جائیں۔ جہاں ان کے بچے، خاندان اور ملنے جلنے والے لوگ آسکیں اور مل سکیں۔