حماس اور اسرائیل کے درمیان آج ہفتے کے روز یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے کی ساتویں کارروائی انجام دی جائے گی۔
حماس یہ تصدیق کر چکی ہے کہ وہ مقررہ پلان کے مطابق آج 6 اسرائیلی یرغمالیوں کو آزاد کرے گی۔ یہ زندہ قیدیوں کی آخری کھیپ ہے جن کو فائر بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے اختتام پر یکم مار چ تک واپس اسرائیل کے حوالے کیا جانا مقرر ہے۔ یہ معاہدہ غزہ کی پٹی میں 15 کی تباہ کن جنگ کے بعد 19 جنوری کو نافذ العمل ہوا تھا۔ یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے غیر معمولی حملے کے نتیجے میں چھڑی۔
ادھر فلسطینی قیدیوں سے متعلق انجمن کے اعلان کے مطابق آج اسرائیلی یرغمالیوں کے مقابل 602 فلسطینی گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے گا جن میں 50 عمر قید کی سزا کاٹنے والے شامل ہیں۔ انجمن کے مطابق 108 قیدیوں کو فلسطینی اراضی سے بے دخل کر دیا جائے گا۔
جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے اب تک 22 یرغمالیوں کو اسرائیل کے حوالے کیا جا چکا ہے جن میں تین لاشیں شامل ہیں۔ اس کے مقابل 1100 سے زیادہ فلسطینی گرفتار شدگان کو رہا کیا گیا ہے۔
فائر بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں جو یکم مارچ کو اختتام پذیر ہو گا، حماس کی جانب سے 33 یرغمالیوں کی رہائی مذکور ہے جن میں آٹھ لاشیں شامل ہیں۔ اس کے مقابل اسرائیل کی جیلوں سے 1900 فلسطینی رہا کیے جائیں گے۔
جمعرات کے روز حماس نے پہلی بار 4 اسرائیلیوں کی لاشوں کے تابوت حوالے کیے۔ ان میں دو بچے ارییل بیباس اور کفیر بیباس ، ان کی ماں شیری بیباس اور ایک 80 سالہ شخص شامل ہے۔ اغوا کے وقت دونوں بچوں کی عمریں بالترتیب چار اور ساڑھے آٹھ ماہ تھیں۔
کفیر 251 یرغمالیوں میں سب سے کم سن یرغمالی تھا۔ غزہ میں اس وقت 67 یرغمالی باقی ہیں جن میں اسرائیلی فوج کے مطابق 35 ہلاک ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی حکام نے جمعے کے روز اعلان کیا کہ جمعرات کے روز حوالے کی جانے والی لاشوں میں شیری بیباس نہیں تھی۔ اسرائیل کے مطابق چوتھی لاش غزہ کی کسی عورت کی ہے۔
حماس کے مطابق شیری اور اس کے دونوں بچے نومبر 2023 میں اسرائیلی بم باری میں ہلاک ہو گئے تھے۔ تنظیم نے غلطی ہو جانے کے امکان کا اقرار کیا ہے۔
شیری بیباس کے گھرانے کا کہنا ہے کہ وہ ابھی تک اپنی بیٹی کے انجام کے بارے میں کسی خبر کے منتظر ہیں۔ شیری کے شوہر کو یکم فروری کو آزاد کیا گیا تھا۔
ادھر صلیب احمر تنظیم نے جمعے کی شام تصدیق کی ہے کہ اس نے اسرائیلی حکام کو نئی باقیات حوالے کی ہیں۔ البتہ تنظیم کو یہ نہیں معلوم کہ آیا یہ اسرائیلی یرغمال خاتون شیری بیباس کی باقیات ہیں۔
اسرائیلی فوج نے جمعے کی شب اعلان کیا کہ وہ ان رپورٹوں کو دیکھ رہی ہے جن کے مطابق حماس نے دوسری لاش صلیب احمر کے حوالے کی ہے اور اس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ شیری بیباس کی ہے۔
حماس نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کے دوران "ایک باری" میں ہی بقیہ تمام قیدیوں کو رہا کرنے پر تیار ہے۔ دوسرے مرحلے کا آغاز دو مارچ سے ہونا ہے۔
معاہدے کے اس دوسرے مرحلے میں توقع ہے کہ غزہ میں جنگ مکمل طور پر اختتام پذیر ہو جائے گی۔ تاہم اس مرحلے کے لیے مذاکرات ابھی تک شروع نہیں ہو سکے ہیں۔ حماس اور اسرائیل کے درمیان پہلے مرحلے میں خلاف ورزی کے الزامات کا تبادلہ ہو رہا ہے۔
معاہدے کا تیسرا اور آخری مرحلہ تباہ حال غزہ کی پٹی کی تعمیر نو سے متعلق ہو گا۔
یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملے میں 1211 افراد مارے گئے تھے۔ حملے کے جواب میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر جنگ مسلط کر دی۔ اس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 48319 فلسطینی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
-
غزہ کے حوالے سے میرا منصوبہ اچھا لیکن اسے مسلط نہیں کروں گا: ٹرمپ
غزہ ایک شاندار محل وقوع پر موجود ہے اور اسرائیل کا اس کو ماضی میں چھوڑنا قابل ...
بين الاقوامى -
غزہ سمجھوتا قائم ، قیدیوں کا اگلا تبادلہ ہفتے کے روز ، یرغمالی کی لاش کا بحران
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا سمجھوتا جاری ہے۔ ...
مشرق وسطی -
ٹرمپ کا منصوبہ غزہ کے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کا نہیں: امریکی ایلچی
غزہ کے مستقبل کے بارے میں بات چیت فلسطینیوں کو مستقبل بہتر بنانے کے طریقے کی طرف ...
بين الاقوامى