"ہم دروز برادری کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں" نیتن یاہو کے بیان سے شام میں اشتعال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

جیسے ہی اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے جنوبی شام کے بارے میں اپنے بیانات ختم کیے تو اس کی مذمت شروع کردی گئی۔ شام میں سویدا میں آزاد جبل العرب اجتماع کے رہنما سلیمان عبدالباقی نے اتوار کی شام ہی کہا کہ وہ شام کے اندرونی معاملات میں کسی بھی بیرونی فریق کی مداخلت کو مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ شام میں دروز کے مطالبات تمام شامیوں کے مطالبات کے برابر ہیں یعنی یہ مطالبات امن اور ریاست کی تعمیر کے ہیں۔

درعا، سویداء اور القنیطرہ

دریں اثنا سوشل میڈیا پر کئی گروپوں کی طرف سے پیر کو جنوبی شام میں درعا، القنیطرہ اور سویداء کے گورنریٹس میں نیتن یاہو کے بیانات کے خلاف مظاہروں کے مطالبات بھی کیے گئے۔ گروپوں نے القنیطرہ میں خان ارنبہ گول چکر، درعا اور سویداء کے علاقے الکرامہ سکوائر میں عوامی مظاہروں کے آغاز کی طرف اشارہ کیا۔ یہ بات اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے گزشتہ روز نئی حکومت کی فوجی دستوں کی جانب سے جنوبی شام کے مکمل انخلاء کے مطالبے کے بعد سامنے آئی ہے۔ نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ہم ھیئہ تحریر الشام کی افواج یا نیو سیرین آرمی کو دمشق کے جنوب میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل جنوبی شام میں دروز کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور ان کے لیے کسی بھی خطرے کو برداشت نہیں کرے گا۔ یہ پیش رفت ان اطلاعات کے درمیان بھی سامنے آئی ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی شام میں گزشتہ دسمبر سے داخل ہونے والے علاقوں کے باشندوں کو کچھ لالچ دے رہی ہے۔ واضح رہے 8 دسمبر کو شام کے سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں میں 10 سے زیادہ علاقوں پر مشتمل بفرزون میں پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں