غزہ: اسرائیل نے جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں توسیع پر سوچنا شروع کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیل نے اپنے بقیہ 63 قیدیوں کی غزہ سے رہائی کے لیے پہلے مرحلے کی 42 دنوں پر مشتمل جنگ بندی میں توسیع پر آمادگی پر سوچنا شروع کر دیا ہے۔ تاکہ تمام قیدیوں کو گھر واپس لا سکے۔ تاہم فی الحال غزہ کے مستقبل کے سوال کو اسرائیل موخر رکھنا چاہے گا۔ اس امر کا اظہار اسرائیلی حکام نے منگل کے روز کہا ہے۔

واضح رہے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا پہلا مرحلہ امریکہ، قطر اور مصر کے توسط سے 19 جنوری سے شروع ہوا تھا۔ اس کا اختتام ہفتے کے روز یکم مارچ کو ہو جائے گا۔ لیکن ابھی کچھ اندازہ نہیں ہے کہ پہلے مرحلے کے بعد دوسرا مرحلہ شروع ہوگا تو کن شرائط پر ہوگا اور غزہ کا مستقبل کیا ہوگا۔

اسرائیلی نائب وزیر خارجہ نے یروشلم میں رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا 'ہم بہت احتیاط سے معاملات کو دیکھ رہے ہیں۔'

ان سے پوچھا گیا تھا کیا یہ ممکن ہے کہ مذاکرات شروع کیے بغیر جنگ بندی میں توسیع ہو جائے۔کیونکہ مذاکرات میں تو جنگ کا حتمی خاتمہ اور غزہ میں مستقبل کا حکمران کون ہوگا اس طرح کے مشکل مسائل شامل ہوں گے۔ نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا ' اس پر کوئی خاص معاہدہ نہیں تھا، لیکن یہ ایک امکان ہو سکتا ہے۔ اس لیے ہم نے موجودہ جنگ بندی کو جاری رکھنے کا آپشن بند نہیں کیا، بلکہ ہمارے قیدیوں کو بحفاظت واپس آنا ہے۔'

انہوں نے کہا ' اگر جمعے تک کوئی سمجھوتہ نہیں ہو جاتا ہے، تو پھر توقع ہوگی کہ یا تو لڑائی میں واپسی ہو جائے یا موجودہ صورت حال میں منجمد کر کے جنگ بندی جاری رکھی جائے لیکن اس دوران ہمارے قیدی واپس نہیں آ سکیں گے البتہ ہم غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل روک سکتے ہیں۔

دریں اثنا جنگ بندی کے عمل میں شامل دو عہدیداروں نے 'روئٹرز ' کو بتایا کہ اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس نے جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے کسی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے بات چیت نہیں کی ہے ۔ اس لیے فریقین کے درمیان وسیع خلیج ختم کرنا ہوگی۔

نائب وزیر خارجہ نے کہا ' میرا خیال ہے کہ کچھ دنوں میں اس طرح کا کچھ بنتا دیکھنا غیر حقیقی ہے۔'

ہاسکل نے کہا ' اس معاملے پر گہرائی سے بات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس میں وقت لگے گا۔
جنگ بندی معاہدے میں 33 اسرائیلی قیدیوں کی غزہ سے حماس کی قید سے رہائی کے بدلے میں تقریبا 2000 فلسطینی اسیران کی رہائی شامل ہے۔ اس وقت معاملہ 600 سے زائد فلسطینی اسیران کی اسرائیلی جیلوں سے رہائی میں تاخیر سے رکا ہوا ہے۔

حماس کے ذمہ دار باسم نعیم نے کہا کہ قیدیوں کے قید رہنے کے دوران پیش رفت نہیں ہو سکی لیکن حماس مستقل جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کے مکمل انخلاء کے لیے پرعزم ہے۔

ہاسکل نے کہا مجھے امید ہے کہ چند دنوں میں کوئی حل نکال کیا جائے گا۔

وٹکاف کا دورہ اسرائیل

امریکہ کے مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کا بدھ کے روز دورہ اسرائیل کا امکان ہے۔

مذاکرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ قطر کے وزیراعظم 6 فروری کو فلوریڈا میں تھے۔ جہاں انہوں نے غزہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے مکمل نفاذ اور دوسرے مرحلے کے لیے وٹکوف سے ملاقات کی ہے۔

تاہم جنگ بندی عمل میں شامل حکام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے بعد دوسرے مرحلے کے لیے فریقین نے ملاقات نہیں کی ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوئی تفصیلات نہیں ہیں۔

غزہ سے فلسطینیوں کے جبری انخلاء کے امریکی منصوبے سے غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی منصوبے کے مطابق غزہ کی صفائی کے لیے فلسطینیوں کو مصر اور اردن منتقل کر دیا جانا چاہیے۔ تاہم مصر، اردن، فلسطینیوں اور عرب ریاستوں نے امریکی منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں