فلسطینیوں کی نقل مکانی اور انہیں ہمسایہ ممالک میں بسانے کی مہمات کے جلو میں اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لپیڈ نے منگل کو یہ تجویز پیش کی کہ مصر اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے خاتمے کے بعد غزہ کی پٹی کا انتظام کم از کم آٹھ سالوں کے لیے اپنے ہاتھ میں لے، جس کے بدلے میں بین الاقوامی برادری کی جانب سے اس کی مدد کرے گی۔
دوسری طرف گلف ریسرچ سینٹر کے بانی سربراہ ڈاکٹر عبدالعزیز صقرنے کہا کہ سعودی عرب نے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کی کسی بھی کوشش کو قطعی طور پر مسترد کرنے کا اعادہ کیا ہے، کیونکہ وہ اسے بین الاقوامی قانون اور فلسطینی عوام کے حقوق کی صریح خلاف ورزی سمجھتا ہے۔مملکت فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کرتی ہےاور کسی بھی غیر منصفانہ منصوبے کے ذریعے ان کے حقوق کو دبانے کی کوشش کو یکسر مسترد کرتی ہے۔
انہوں نے مصری مرکز برائے فکر و حکمت عملی کے زیر اہتمام "غزہ اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کا مستقبل" کے عنوان سے منعقدہ ایک سمپوزیم کے دوران خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ سعودی عرب نے امریکی دباؤ کے حوالے سے عرب موقف کو یکجا کرنے کے لیے کام کیا۔ وہ عرب فریم ورک کے اندر اور مملکت کے ساتھ مل کر حقوق کی ضمانت دینے کی کوششوں کے ساتھ حل کے لیے کوشاں ہے۔
صقر نے کہا کہ سعودی عرب نے دو ریاستی حل کو ایک اسٹریٹجک آپشن کے طور پر اپنایا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ مملکت فلسطینیوں کے حقوق پر کوئی سودے بازے قبول نہیں کرے گی بلکہ مملکت کا خیال ہے کہ تنازعے کا واحد حل دو ریاستی فارمولے پرعمل درآمد کرنا ہے۔
خلیجی تحقیقی مرکز کے سربراہ نے مزید کہا کہ "وقت کے ساتھ اور طویل عرصے سے مملکت نے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کے تمام منصوبوں کا مقابلہ کیا۔اس سلسلے میں ٹرمپ کی تجویز پر فوری سعودی ردعمل نے امریکی صدر کے نقل مکانی سے متعلق بیانات کو تبدیل کرنے کا باعث بنا۔ سعودی عرب نے امریکی صدر کے بیانات کا چند گھنٹے کے اندر رد عمل دے کر یہ ثابت کیا کہ ہے مملکت فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کو کسی صورت میں قبول نہیں کرے گا۔