لبنان کے صدر کی الشرق الاوسط سے گفتگو: جنگ اور امن کا فیصلہ صرف اور صرف ریاست کے ہاتھ میں

اسرائیل کو لبنانی علاقوں سے دستبردار ہو جانا چاہیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ وہ ایک ایسی ریاست بنانا چاہتے ہیں جو جنگ اور امن کا فیصلہ کرنے کی اہل ہو اور یہ کہ وہ سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہیں۔

جنوری میں بطورِ صدر منتخب ہونے کے بعد الشرق الاوسط اخبار کو اپنے اولین انٹرویو میں عون نے کہا: "ہمارا مقصد ریاست کی تعمیر ہے اس لیے کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔ اور اگر ہم خودمختاری کے تصور پر بات کرنا چاہیں تو اس تصور کا مطلب ہے کہ جنگ اور امن کے فیصلے ریاست کے ہاتھ میں ہوں اور ہتھیاروں پر ریاست کی اجارہ داری یا پابندی ہو۔"

"یہ کب حاصل ہوگا؟ یقیناً حالات اسے ممکن بنائیں گے، "انہوں نے اخبار کو بتایا۔

کیا ریاست لبنان کے تمام علاقوں پر اپنی افواج کے ساتھ اور کسی فوجی یا سکیورٹی شراکت کے بغیر کنٹرول قائم کر سکے گی، اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا: "زمین اور عوام کی حفاظت کے لیے ریاست کو ہی اپنا قومی فریضہ پورا کرنے کی اجازت ہے، کسی اور کو نہیں۔ جب لبنانی ریاست کے خلاف جارحیت ہوتی ہے تو ریاست فیصلہ کرتی اور یہ تعین کرتی ہے کہ ملک کی افواج کو کس طرح متحرک کرنا ہے۔"

انہوں نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد کے لیے اپنے مکمل عزم پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا، "ریاست اور اس کے تمام ادارے اس قرارداد کو "پورے لبنانی علاقوں" پر نافذ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔"

ممکنہ دفاعی حکمت عملی اختیار کرنے کے حوالے سے عون نے اصرار کیا کہ خواہ کسی ریاست کے اپنی سرحدوں پر دشمن نہ ہوں لیکن تب بھی اسے قومی سلامتی کی ایسی حکمتِ عملی پر اتفاق کرنا چاہیے جو نہ صرف فوجی اہداف بلکہ اقتصادی اور مالیاتی مقاصد سے متعلق ہو۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا، "ہم جنگ سے تھک چکے ہیں۔ ہم فوجی تنازعات کے خاتمے اور سفارتی کوششوں کے ذریعے اپنے مسائل حل کرنے کی امید رکھتے ہیں۔"

کیا وہ اس بات پر حیران ہیں کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں پانچ مقامات پر بدستور قیام پذیر ہے، اس سوال پر عون نے کہا کہ اسرائیل کو جنگ بندی کے اس معاہدے کا پابند ہونا چاہیے تھا جو امریکہ اور فرانس کے تعاون سے ہوا تھا اور ان تمام علاقوں سے دستبردار ہو جانا چاہیے تھا جہاں وہ حزب اللہ کے ساتھ جنگ کے دوران داخل ہوا تھا۔

انہوں نے کہا، "ہم فرانس اور امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہیں کہ وہ اسرائیل پر پانچ مقامات سے دستبرداری کے لیے دباؤ ڈالیں کیونکہ ان کی کوئی فوجی اہمیت نہیں ہے۔ "ٹیکنالوجی، ڈرونز اور سیٹلائٹ کے ظہور میں آ جانے کے بعد" کسی فوج کو نگرانی کے لیے پہاڑوں پر چڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

وہ اپنا اولین سرکاری دورہ سعودی مملکت کا کیوں کر رہے ہیں، اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، "سعودی عرب خطے اور تمام دنیا کے لیے ایک گذرگاہ بن چکا ہے۔ یہ عالمی امن کے لیے ایک پلیٹ فارم بن گیا ہے۔ میں سعودی عرب بالخصوص ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے امید اور توقع رکھتا ہوں کہ دونوں ممالک کے مفاد کے لیے ہم تعلقات کو درست اور تمام رکاوٹوں کو دور کریں۔۔۔ تاکہ ہم اپنے درمیان اقتصادی اور قدرتی تعلقات استوار کر سکیں۔"

انہوں نے ارادہ ظاہر کیا کہ اپنے دورے کے دوران وہ سعودی عرب سے لبنان کی فوجی امداد کی بحالی کے لیے کہیں گے۔

شامی حکام کے ساتھ تعلقات کے بارے میں عون نے کہا، ان کا شام کی نئی انتظامیہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنے کا ارادہ ہے اور یہ کہ ان میں سے ایک اہم مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان غیر محفوظ سرحد کے مسئلے کو حل کرنا ہے۔

انہوں نے کہا، "(شام کے ساتھ) سرحد پر سمگلروں کے مسائل ہیں۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ شام کے ساتھ زمینی اور سمندری سرحد کی حد بندی ہونی چاہیے۔"

عون نے لبنان میں شامی مہاجرین کا مسئلہ حل کرنے پر بھی زور دیا۔ "شامی ریاست لبنان میں بے گھر ہونے والے 20 لاکھ شہریوں کو تنہا نہیں چھوڑ سکتی۔ پناہ گزینوں کو واپس آ جانا چاہیے کیونکہ "شام کی جنگ ختم ہو گئی ہے اور ان پر ظلم کرنے والی حکومت کا خاتمہ ہو گیا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں