حزب اللہ کو ممکنہ فراہمی، بیروت ایئرپورٹ پر 2.5 ملین ڈالر ضبط کر لیے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

لبنان کی وزارت خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ کسٹمز ڈائریکٹوریٹ کے ٹریولرز اینڈ ڈیوٹی فری ڈپارٹمنٹ نے بیروت کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ترکیہ سے آنے والے ایک مسافر سے ڈھائی ملین ڈالر کی امریکی کرنسی کی رقم ضبط کرلی ہے۔

کیسیشن پبلک پراسیکیوٹر کے مطابق زیر حراست شخص اور ضبط شدہ اشیاء کو جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پبلک سیکیورٹی کے تحقیقاتی شعبہ کے حوالے کر دیا جائے گا۔

ادھر تین ذرائع نے بتایا ہے کہ بیروت ہوائی اڈے کے حکام نے ترکیہ سے آنے والے ایک شخص سے 2.5 ملین ڈالر کی وہ نقدی ضبط کی ہے جو حزب اللہ گروپ کو منتقل کی جارہی تھی۔ ذرائع میں سے ایک نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع تھا جب رقم ضبط کی گئی۔ اس پر حزب اللہ نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

یاد رہے حزب اللہ اسرائیل کے ساتھ حالیہ محاذ آرائی کے دوران اپنا زیادہ تر فوجی اور مالی اثر و رسوخ کھو بیٹھی ہے۔ حزب اللہ گروپ نے اپنے بہت سے بڑے رہنماؤں کو کھو دیا ہے۔ اس کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ کو قتل کردیا گیا ہے۔ لبنان کے بیروت بین الاقوامی ہوائی اڈے پر خاص طور پر ایران سے آنے والے طیاروں پر بھی سخت معائنہ کا طریقہ کار نافذ کیا گیا ہے۔

اسرائیل کا الزام

18 فروری کو اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار نے ترکیہ پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ حزب اللہ کو رقم سمگل کرنے کے لیے ایران کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ متعدد امریکی سینیٹرز اور مشرق وسطیٰ کے امور کے لیے معاون خصوصی امریکی نمائندہ مورگن اورٹاگس کے ساتھ ملاقات کے دوران سار نے کہا کہ تہران نے حزب اللہ کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں اور اس حوالے سے انقرہ سے مدد طلب کی ہے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار نے مزید کہا کہ حزب اللہ کی طاقت اور مقام کو بحال کرنے کے لیے ایران کی جانب سے لبنان میں رقوم کی منتقلی کی کوششوں میں حال ہی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ کوششیں ترکیہ سمیت دیگر چینلز کے ذریعے اور ان کے ساتھ تعاون سے عمل میں لائی جا رہی ہے۔

ترکیہ کے کردار کو محدود کرنا

دریں اثنا علمی اور سیاسی محقق مھند حافظ اوگلو نے کہا ہے کہ اس الزام کی حقیقت اسرائیل کی شام میں ترکیہ کے کردار کو خصوصی طور پر محدود کرنے کی خواہش میں مضمر ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تل ابیب نہیں چاہتا کہ شام میں انقرہ کا زیادہ کردار ہو۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ترکیہ کبھی نہیں چاہتا کہ ایرانی کردار شام میں واپس آئے کیونکہ تہران کا نہ صرف شام بلکہ خطے میں بھی منفی کردار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں