جمہوریہ شام کے معروف قومی اخبار ' اناب البلادی نے دارالحکومت دمشق میں ایک بار پھر اپنی سرکولیشن کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ اس اخبار پر دس سال پہلے بشارالاسد رجیم نے پابندی لگا دی تھی۔
میڈیا سے متعلق گروپوں اور تنظیموں نے اس بڑی پیش رفت کو صحافتی آزادی و کامیابی کے لیے ایک اہم موڑ قرار دیا ہے اور اخبار کی دوبارہ اشاعت شروع ہونے کی تحسین کی ہے۔
'اناب البلادی' نامی اخبار ایک آزاد میڈیا گروپ کے طور پر شام میں اپنی خدمات پیش کرتا ہے۔ اس کا باقاعدہ آغاز 2012 میں ہوا تھا۔ اس کی اشاعت اپوزیشن کے علاقوں کے اندر تک محدود تھی۔
تاہم 2020 میں بشارالاسد رجیم نے شام کے شمالی علاقوں میں بھی اپنی ظالمانہ کارروائیوں کو تیز کر اس اخبارکی سرکولیشن کو مزید پابندیوں کی زد میں کر دیا۔
اخبار کے ادارتی عملے کے کئی ارکان کو گرفتار کیا جاتا رہا اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ کئی ارکان ادارت تشدد سے یا پھربشار رجیم کی کارروائیوں میں ہلاک ہو گئے۔
اب اخبار نے اپنی اشاعت کا پھر سے آغاز کر دیا ہے۔ اخباری ادارے نے بتایا ہے کہ اس کی پہلی اشاعت اپنی فنانسنگ اور عملے کی ہمت و کوششوں کی بنیاد پر کی مدد سے کی گئی ہے اور دراء کے پروسی شہر دارالحکومت دمشق میں بھی محدود پیمانے پر تقسیم کیا گیا ہے۔
ادارے کا خیال ہے کہ مستقبل میں یہ اخبار ڈیجیٹل اور ویژوئل مواد پر مبنی ہواکرے گا۔ یا پھر طبع شدہ کاپیاں دارالحکومت میں بھی تقسیم کی جائیں گی۔ اخبار کی نئے سرے سے شاعت کا آغاز 8 اگست 2024 میں ھیتہ التحریرالشام کی حکومت قائم ہو جانےکے چھ ماہ بعد ممکن ہوا ہے۔ دارالحکومت دمشق میں اخبار نے اپنا ایک نیوز روم قائم کیا ہے۔
اخبار کی طرف سے اشاعت کی نئی کوشش کونئے عبوری دور میں اس ماحول میں کیا ہے جب کہا جا رہا ہے کہ آزادی اظہار رائے کویقینی بنایاجائے گا۔ جبکہ میڈیا آرگنائزیشنوں نے اس پیش رفت کوآزادی صحافت کی کامیابی قرار دیا گیا ہے۔