اسرائیل غزہ میں امداد کی ترسیل روک کرانسانی حقوق کی خلاف ورزی کررہا ہے:ایم ایس ایف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

انسانی حقوق کے لیے بین الاقوامی سطح پر کام کرنے والی ڈاکٹروں کی تنظیم 'ایم ایس ایف' (ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز) نے بدھ کے روز قرار دیا ہے کہ اسرائیل اور اس کی فوج غزہ میں اشیائے ضروریہ کو روک کر بنیادی انسانی ضروریات کو روک رہی ہے اور طاقت کے استعمال کو انسانیت کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

'ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز' نے اس امر کا اظہار غزہ میں اشیائے ضروریہ کے علاوہ بجلی کی بندش کے حالیہ حکم نامے کے بعد کیا ہے۔

'ایم ایس ایف' کی ایمرجنسی کو آرڈینیٹر مریم نے کہا 'اسرائیلی حکام امدادی سامان کی ترسیل روک کر مذاکرات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ انتقامی کارروائی ہے اور یہ انسانیت کے خلاف ہے۔ اسے کبھی بھی 'بارگینگ' کے لیے ایک جنگی حربے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا ن چاہیے۔'

واضح رہے 19 جنوری سے جاری جنگ بندی کے باوجود اسرائیل غزہ کی ناکہ بندی کر کے لاکھوں اہل غزہ کو ضروری اشیاء کی ترسیل کو روکے ہوئے ہے۔

اسرائیل نے یہ صورتحال دوحہ میں مذاکرات کے نئے راؤنڈ سے پہلے پیدا کی ہے۔

حماس نے اسرائیل کی ان کارروائیوں کو بلیک میلنگ قرار دہتے ہوئے ناقابل قبول قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ فلسطینیوں کو اجتماعی سزا دینے کی اسرائیلی کوشش ہے۔

'ایم ایس ایف' نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل اس غیر انسانی ناکہ بندی کو روکے اور غزہ میں لوگوں تک پانی، ادویات، خوراک اور ایندھن سمیت تمام اشیاء کو بلا روک ٹوک پہنچنے دے۔

اسرائیل کی طرف سے حالیہ ناکہ بندی سے پہلے ہی خان یونس کے علاقے میں ایندھن کا شدید بحران چلا آرہا ہے۔ جس کی وجہ سے پانی کی فراہمی بھی مشکل ہو چکی ہے۔

اب اسرائیل کی طرف سے بجلی کی بندش کے بعد اس کے اثرات بھی سنگین تر صورت میں نظر آنا شروع ہو چکے ہیں۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ اس طرح لوگوں کو دباؤ میں لا کر مذاکرات میں اپنی مرضی کی شرائط کو تسلیم کرا لے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں