شامی کارکنوں پر حملوں کی تحقیقات کی جائیں گی : عراق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

عراق نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے اندر شامی کارکنوں پر حملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ عراق کی طرف سے یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عراق میں نئے قائم کیے گئے ایک گروپ نے شام میں علویوں کی ہلاکتوں کا انتقام لینے کا اعلان کیا ہے۔

خیال رہے شام سے متصل بحیرہ روم صورت حال بد امنی کی زد میں ہے ۔ جہاں شام کی عبوری حکومت کی فورسز نے بشارالاسد کے حامی علویوں کو نشانہ بنایا اور سینکڑوں ہلاک ہو گئے۔

اس سے قبل عراق کے ایک گروپ نے ایسی ویڈیو وائرل کی تھی جس میں ماسک پہنے دو بیکری ملازمین کو زدوکوب کرتے دکھایا گیا تھا۔

ایک بیان میں بھی اس سے پہلے کہا گیا تھا ' یہ گروپ عراق میں شامی کارکنوں پر حملے کی مذمت کرتا ہے۔ ان کی جنہوں نے انسانیت کے خلاف جرائم کیے اور انتباہ کیا تھا کہ وہ علویوں کے خلاف حملے تیز کیے جائیں گے۔ '

عراقی وزیر اعظم محمد السوڈانی نےایک بیان میں شامی کارکنوں پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ' یہ شرمناک اور پر تشدد کارروائی ہے۔' وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ وہ اس حملے کی تحقیقات کا حکم دے رہے ہیں۔

عراقی وزیر اعظم نے یہ بھی کہا ' قانون کی پوری طرح عمل داری کی جائے گی۔ خواہ اس معاملے میں کوئی بھی ملوث ہو۔'

یاد رہے حالیہ دنوں میں عراقی فوج نے 13 شامی شہریوں کو گرفتار کیا ہے۔ حراست میں لیے گئے ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے دہشت گردانہ گروپوں کی حمایت کی اور شام میں قتل عام کی حمایت کی۔ یہ بات عراقی وزارت داخلہ کے دو حکام نے ' اے ایف پی ' کو اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتائی ہے۔

شام کی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز عراق میں شامی شہریوں کے خلاف پر تشدد واقعات کی مذمت کی اور عراقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور عراق شامی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنییا جائے۔

ایران کے حامی مسلح گروپوں نے عراق میں ' آن لائن ' ایک سوشل میڈیا مہم شروع کر رکھی ہے، جس میں وسیع طور پر علویوں کی ہلاکتوں کی حمایت کرنے والوں کی مذمت کی گئی ہے۔

عراق کی حکومت نے شام کی نئی حکومت سے اپنے آپ کو فاصلے پر رکھنے کی حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں