اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی سے متعلق اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ کو جھوٹ پر مبنی اور مضحکہ قرار دیا ہے۔ خیال رہے اقوام متحدہ کی رپورٹ میں اسرائیل کے ہاتھوں نسل کشی کی تصدیق کی گئی ہے۔
اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کے جنگی جرائم میں وارنٹ گرفتاری اس سے پہلے بین الاقوامی فوجداری بھی جاری کر چکی ہے۔
نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کے بارے میں اپنے بیان میں سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ' اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل ایک اسرائیل دشمن سرکس ہے اور یہ یہود مخالف، کرپٹ دہشت گردوں کی حامی اور عملاً ایک غیر متعلقہ ادارہ ہے۔'
نیتن یاہو نے اپنے بیانات کے روایتی انداز میں ہولو کاسٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا ' ہولوکاسٹ کے بعد سے یہودیوں کے خلاف بدترین قتل عام میں انسانیت کے خلاف جرائم اور حماس کے جنگی جرائم پر متوجہ ہونے کے بجائے، اقوام متحدہ ایک بار پھر اسرائیل پر جھوٹے الزامات کے ساتھ حملہ آور ہے۔ غزہ میں نسل کشی سمیت لگائے تمام الزامات مضحکہ خیز اور بے بنیاد ہیں۔
اقوام متحدہ کی جمعرات ہی کے روز سامنے آنے والی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل نے فلسطینی سرزمین کے مرکزی تولیدی مرکز پر جان بوجھ کر حملہ کیا تھا۔ نیز جانتے ساتھ ہی غزہ کا محاصرہ کر کے جانتے بوجھتے امدادی سامان کو روکا ہے۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کمیشن نے اپنی تحقیقات میں یہ دیکھا ہے کہ اسرائیلی حکام نے جنسی اور تولیدی صحت کی دیکھ بھال کے مرکز کو منظم انداز سے تباہ کیا ہے۔