نیٹ فلیکس فلم کی وجہ بننے والی شامی تیراک یسریٰ ماردینی کی 10 سال بعد شام واپسی

وطن واپسی پر انسٹا پر جذباتی پوسٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اولمپک تیراک اور شامی پناہ گزین یسریٰ ماردینی جن کی کہانی سے متأثر ہو کر 2022 کی نیٹ فلیکس کی فلم The Swimmers بنائی گئی، خانہ جنگی سے فرار ہونے کے دس سال بعد شام واپس لوٹ آئیں۔

ترکیہ سے 2015 میں یونان کے سفر میں بحیرۂ ایجیئن کو عبور کرتے ہوئے وہ نہ صرف خود زندہ بچ گئیں بلکہ اپنی بہن کے ساتھ مل کر اپنی ڈنگی (چھوٹی کشتی) پر سوار تمام لوگوں کی بھی جان بچائی۔ ہنگامہ خیز سفر کے وسط میں کشتی کا انجن چل پڑا۔ دونوں بہنوں نے پانی میں چھلانگ لگا دی اور کئی گھنٹے تک کشتی کے ساتھ تیر کر اسے محفوظ مقام تک پہنچایا۔

جرمنی میں پناہ حاصل کرنے کے بعد ماردینی نے ریو ڈی جنیرو میں پناہ گزینوں کی اولین اولمپک ٹیم کی رکن کے طور پر 2016 اولمپکس اور پھر ٹوکیو اولمپکش میں مقابلہ کیا۔

تب سے وہ شام نہیں گئی تھیں

انہوں نے جمعرات کو انسٹاگرام پر کہا، "میں یقین نہیں کر سکتی کہ یہ لمحہ حقیقی ہے۔ 10 سال کے بعد میں دوبارہ اس پول پر ہوں جہاں سے یہ سب شروع ہوا تھا، جہاں میں نے اولمپکس میں حصہ لینے کا خواب دیکھا تھا، جہاں مجھے تیراکی سے محبت ہو گئی تھی اور جہاں سے میرا بہت زیادہ سفر شروع ہوا۔"

ماردینی کو 2017 میں 19 سال کی عمر میں اقوامِ متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی یو این ایچ سی آر کے لیے کم عمر ترین خیر سگالی سفیر مقرر کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا، "بہت کچھ بدل گیا ہے پھر بھی یہ گھر جیسا محسوس ہوتا ہے۔ میں کبھی نہیں جانتی تھی کہ میں اس جگہ کو دوبارہ دیکھوں گی اور اب اس پول ڈیک پر کھڑے ہو کر میں جذبات، شکر گذاری، ماضی کی یادوں اور خالص خوشی سے مغلوب ہوں۔ اس پول نے مجھے بنایا اور آج میں دوبارہ یہاں ہوں۔ میں اپنے ملک میں پر ہوں۔"

متأثر کن 27 سالہ نوجوان خاتون نے اپنی سوانح حیات لکھی ہے:

بٹر فلائی: فرام ریفیوجی ٹو اولمپیئن تک – مائی سٹوری آف ریسکیو، ہوپ اینڈ ٹرائمف۔

انہوں نے ایک غیر منافع بخش تنظیم یسریٰ ماردینی فاؤنڈیشن کا بھی آغاز کیا جو مہاجرین کو کھیلوں اور تعلیم تک رسائی فراہم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

گذشتہ سال دسمبر میں شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا تھا۔

اس وقت الاسد حکومت کا تختہ الٹنے والے اپوزیشن گروپ کے رہنما احمد الشرع کو اس سال کے شروع میں شام کا صدر مقرر کیا گیا تھا۔

ہر جگہ شامیوں نے بہت حد تک الاسد حکومت کے خاتمے کا خیرمقدم کیا اور نئی حکومت کے بارے میں محتاط انداز میں پُر امید رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں