14 سالوں میں پہلی مرتبہ دارالحکومت دمشق کے اموی سکوائر پر 15 مارچ 2011 کو صدر بشار الاسد کی حکمرانی کے خلاف شروع ہونے والے شامی انقلاب کی یاد منائی گئی۔ سیکڑوں شامی دارالحکومت میں جمع ہوئے۔ انہوں نے بینرز اٹھا رکھے تھے۔ ان پر ظلم کے خلاف اپنی تحریک کے آغاز کی 14 ویں سالگرہ منانے کے حوالے سے عبارات درج تھیں۔
اس موقع پر ہیلی کاپٹر جو پہلے دھماکہ خیز بیرل گراتے رہے اب شہریوں پر گلاب کی پھولوں کی بارش کر رہے تھے۔ ان سرخ پھولوں کے ساتھ پیغامات بھی تھے جن میں لکھا تھا "موت کے بیرل سے زندگی کے پھولوں تک" اور "دمشق کے آسمان پر امن پرواز کرتا ہے"۔
حلب کے دیگر علاقوں، دیر الزور، درعا اور دیگر علاقوں میں بھی ہزاروں افراد انقلاب کی یاد منانے کے لیے جمع ہوئے۔ اس انقلاب میں شامی شہریوں کو ہزاروں ہلاکتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ حکام نے مظاہرین کو تشدد اور جبر کا نشانہ بنایا تھا اور پھر ملک ایک خونریز جنگ میں ڈوب گیا۔
شام کی جیت
"شام کی جیت" کے نعرے کے تحت کارکنوں نے مختلف شہروں، خاص طور پر حمص، ادلب اور حما میں مظاہرے کیے۔ یہ مظاہرے اسد خاندان کی کئی دہائیوں کی حکمرانی کے بعد ملکی تاریخ میں ایک نئے مرحلے کی تصدیق کر رہے تھے۔ اس سال کی یادگار پہلی بار اسد خاندان کی حکمرانی کے بغیر منائی گئی۔ یاد رہے حزب اختلاف کے گروپوں نے 8 دسمبر 2024 کو بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر اموی سکوائر میں بھرپور جشن منایا گیا۔