حماس نے قیدیوں کی رہائی سے انکار کرکے جنگ کا انتخاب کیا:امریکہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

اسرائیل کی جانب سے منگل کو غزہ کی پٹی میں دوبارہ فوجی آپریشن شروع کرنے کے بعد وائٹ ہاؤس نے حماس کو قیدیوں کی رہائی سے انکار پر جنگ کی طرف جانے کا الزام عاید کیا۔

امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان برائن ہیوز نے ایک بیان میں کہا کہ حماس جنگ بندی میں توسیع کے لیے یرغمالیوں کو رہا کر سکتی تھی لیکن اس نے جنگ بندی کی تجویز مسترد کرکے جنگ کا انتخاب کیا ہے۔

"جہنم کے دروازے"

وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ تل ابیب نے منگل کو غزہ پر اپنے فضائی حملوں کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ سے مشاورت کی ہے۔

اس نے فاکس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہاکہ "حماس، حوثی، ایران، اور کوئی بھی قوت جو اسرائیل اور امریکہ کو دہشت زدہ کرنا چاہتی ہے، اسے بھاری قیمت چکانا پڑے گی اور ان پر جہنم کے دروازے کھل جائیں گے"۔

فلسطینی محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ منگل کے روز غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں میں 400 سے زائد افراد مارے گئے، جس سے دو ماہ پرانی جنگ بندی مکمل طور پر ختم ہونے کا خطرہ ہے کیونکہ اسرائیل نے علاقے میں ابھی تک قید اپنے یرغمالیوں کو آزاد کرانے کے لیے مزید طاقت کے استعمال کا عزم کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں