اسرائیل نے بدھ کے روز اقوام متحدہ کے ایک کارکن کی اسرائیلی بمباری سے ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ ان تحقیقات کی اطلاع وزارت خارجہ کے ترجمان نے دی ہے۔ اس سے پہلے اسرائیلی فوج نے اقوام متحدہ کے کارکن کی ہلاکت کی ذمہ داری لینے سے انکار کیا تھا۔
اقوام متحدہ پراجیکٹ سروس کے دفتر نے اعلان کیا تھا کہ اپنے کارکنوں میں سے ایک کی غزہ میں ہلاکت کا اعلان کیا تھا۔ یہ ہلاکت اقوام متحدہ دیر البلاح کے علاقے میں قائم اقوام متحدہ کی عمارت کو بمباری سے نشانہ بنایا تھا۔
بمباری کے اس واقعے میں اقوام متحدہ کے ایک کارکن کی ہلاکت کے علاوہ پانچ دیگر کارکن زخمی ہو گئے تھے۔ منگل کے روزسے غزہ پر مسلط کردہ اسرائیلی جنگ کے دوران اقوام متحدہ کی عمارت پر یہ پہلا حملہ ہے۔ اسرائیل نے یہ نئی جنگی جارحیت 19 جنوری کے جنگ بندی معاہدے کے خلاف شروع کی ہے۔
اقوام متحدہ کے پراجیکٹ سروسز کے چیف موریرا دا سلوا نے اس امر کا اظہار اپنے ایک بیان میں کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس تباہ کن حملے میں کارکن کی ہلاکت پر صدمے کی کیفیت میں ہیں۔
انہوں نے کہا ' یہ ایک واقعہ نہیں تھا ، بلکہ یہ انسانی بنیادوں پر کام کرنے والی عمارت پر حملے کی صورت بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی تھی۔ کیونکہ اقوام متحدہ کے اہلکاروں اور عمارات کی ہر ایک کو حفاظت کرنی چاہیے۔
اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان اورن مارمورسٹین نے اس امر کا اظہار اپنے ' ایکس ' پر ایک بیان میں کیا ہے۔ ہم اقوام متحدہ کے اس بلغارین کارکن کی ہلاکت پر رنجیدہ ہیں۔
اس واقعے کے پس منظر میں موجود حالات و واقعات کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں اگرچہ اس کا کوئی تعلق ایسا نہیں ملا کہ ان کا فوجی کارروائی سے ہے۔
دوسری جانب بلغاریہ کی وزارت خارجہ نے علاقے کا ذکر کیے بغیر اپنے شہری کی ہلاکت پر بات کی ہے۔ اقوام متحدہ کے پانچ زخمی کارکنوں کو الاقصیٰ شہدا ہسپتال میں منتقل کر کے ان کا علاج شروع کر دیا گیا ہے۔
اسرائیلی ترجمان نے کہا ' اسرائیلی فوجی ہلاک شدہ کارکن اور زخمی کارکنوں کو نکالنے کے حوالے سے مدد کر رہے ہیں۔ اب ان زخمی کارکنوں کا اسرائیلی ہسپتل میں داخل کیا جائے گا۔
اقوام متحدہ کےترجمان فرمان حق کے مطابق سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس بھی اس واقعے پر بہت رنجیدہ ہیں۔ جس واقعے مین ایک کارکن ہلاک اور پانچ زخمی ہو ئے ہیں۔ یاد رہے دیر البلاح میں اقوام متحدہ کے دو گیسٹ ہاؤسز بھی بمباری سے نشانہ بنائے گئے ہیں۔
ترجمان نے کہا ' غزہ کی جنگ کے دوران اب تک اقوام متحدہ کے کم از کم 280 کارکن بمباری سے ہلاک ہو چکے ہیں۔'
دوسری جانب بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کی جاری کردہ ویڈیو فوٹیج میں دیر البلاح کے علاقے میں دکھایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی گاڑیاں اور ایک ایمبولینس تین زخمیوں کو ہسپتال پہنچا رہی تھی۔
ان میں سے دو کی ٹانگیں زخمی تھیں جبکہ ایک کے دونوں بازوؤں پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور پیٹ اور سینے سے خون نکل رہا تھا۔
بتایا گیا ہے کہ ان کارکنوں میں سے دو نے بلٹ پروف جیکٹس پہن رکھی تھیں جبکہ ایک نے اقوام متحدہ کے ایک ادارے کی لوگو والی ٹی شرٹ پہن رکھی تھی۔