مسجد کے مینار اسلامی فن تعمیر کے شعار اور علامت ہوتے ہیں۔ اسلامی معاشروں کے شہری ماحول میں ان کی شکلیں چھوٹے اور موٹے میناروں سے لے کر لمبے اور پتلے میناروں تک مختلف ہوسکتی ہیں۔ مکہ مکرمہ میں المسجد الحرام کے میناروں کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہ مینار مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ سے متصل ہیں جہاں سے اسلام کی روشنی پھیلتی ہے۔ وہ اسلامی ورثے سے ماخوذ فن تعمیر اور اپنے لاؤڈ سپیکر کے ذریعے نماز کے وقت کی آمد کا اعلان کرنے میں نمایاں کردار کرتے ہیں۔
مسجد حرام اور مسجد نبوی کے امور کی دیکھ بھال کرنے والی جنرل اتھارٹی کے مطابق المسجد الحرام میں 13 مینار ہیں جو ڈیزائن میں ایک جیسے ہیں لیکن ان کی لمبائی مختلف ہے۔ یہ مینار تعمیراتی شاہکار ہیں۔ ان میں سے دو مینار وہ ہیں جو العمرہ گیٹ پر ہیں اور ان کی لمبائی 137، 137 میٹر طویل ہے۔ دو مینار شاہ عبد العزیز گیٹ پر ہیں اور ان کی لمبائی بھی 137 ، 137 میٹر ہے۔ فہد ملک گیٹ پر بھی دو مینار ہیں جن کی لمبائی 98 ، 98 میٹر ہے۔ الصفا گیٹ پر ایک مینار کی لمبائی 98 میٹر ہے۔ الفتح گیٹ پر دو میناروں کی لمبائی 137، 137 میٹر ہے۔ چار مینار تیسری سعودی توسیع میں ہیں، ان سب کی لمبائی 135 میٹر ہے۔
مسجد حرام کے ان میناروں میں سے ہر ایک مینار کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ بنیاد، پہلی بالکونی، مینار کا درمیانی حصہ، دوسری بالکونی اور سب سے اوپر ہلال ہے۔ میناروں کے سب سے اوپر موجود یہ ہلال پورے اسلامی دور میں مختلف شکلوں میں بنائے گئے تھے۔ تعمیر کے وقت مختلف نمونے اس وقت تک تیار کیے جاتے رہے جب تک میناروں کی موجودہ شکل حاصل نہ ہوگئی۔