اسرائیل نے آسکر ایوارڈ یافتہ فلسطینی ہدایتکار کو مغربی کنارے میں حراست کے بعد رہا کر دیا
اسرائیلی آبادکاروں کے حملے میں حمدان بلال زخمی ہو گئے
اسرائیلی پولیس نے آسکر ایوارڈ یافتہ فلسطینی فلمساز حمدان بلال کو منگل کے روز رہا کر دیا۔ انہیں ایک روز قبل مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کے حملے کے بعد "پتھراؤ" کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔
بلال کے ہمراہ آسکر ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم نو ادر لینڈ کے لیے کام کرنے والے باسل عدرا نے بلال کی رہائی کے بعد ان کی خون سے داغدار قمیض کی تصویر ایکس پر پوسٹ کی۔
بلال نے اے ایف پی ٹی وی کی ایک ویڈیو میں کہا، "آسکر جیتنے کے بعد مجھے اس طرح کے حملوں کا نشانہ بننے کی امید نہیں تھی۔ یہ ایک بہت شدید حملہ تھا اور ان کا مقصد مجھے مارنا تھا۔"
اسرائیلی فوج کے مطابق پیر کے روز مغربی کنارے کے جنوب میں واقع گاؤں سوسیا میں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے تصادم کے دوران تین فلسطینیوں کو "پتھراؤ" کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔
فوجی بیان میں کہا گیا، "اس کے بعد ایک پرتشدد تصادم شروع ہوا جس میں فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان پتھراؤ بھی شامل تھا۔"
یہ گاؤں مسافر یطا کے قریب واقع ہے جو ہیبرون شہر کے جنوب میں بستیوں کا ایک گروپ ہے۔ نو ادر لینڈ یہاں فلمائی گئی ہے۔
اس سال کے اکیڈمی ایوارڈز کی بہترین دستاویزی فلم مسافر یطا میں اسرائیلی فوجیوں اور آباد کاروں کے ہاتھوں فلسطینیوں کی جبری نقلِ مکانی کی کہانی بیان کرتی ہے۔ 1980 کے عشرے سے اسرائیل نے اسے ممنوعہ فوجی علاقہ قرار دیا ہوا ہے۔
پولیس کے ترجمان نے بلال کو حراست میں لینے کی تصدیق کی تھی جبکہ بعد میں فوج کے ایک بیان میں کہا گیا کہ تین افراد کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ ان سے "پتھراؤ کرنے، املاک کو نقصان پہنچانے اور علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے شبہے میں" تفتیش کی جا رہی تھی۔
بلال نے کہا کہ ان پر ایک آباد کار نے حملہ کیا۔
"وہ مجھے پورے جسم پر مار رہا تھا اور اس کے ساتھ ایک سپاہی بھی مجھے مار رہا تھا۔"
فلم نو ادر لینڈ کے معاون ہدایت کار یوول ابراہم نے کہا، بلال کے سر اور پیٹ میں چوٹیں آئیں اور خون بہہ رہا تھا۔
یہودی گروپ سینٹر فار جیوئش نان وائلینس کے کارکنان نے کہا کہ آباد کاروں کا تشدد روکنے کی کوشش میں وہاں موجودگی کے دوران انہوں نے سوسیا میں تشدد دیکھا۔
"اس قسم کا تشدد مستقل بنیادوں پر ہو رہا ہے،" ایک امریکی کارکن جینا نے کہا جنہوں نے سکیورٹی خدشات کی بنا پر اپنا پورا نام بتانے سے انکار کیا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی افواج کے پہنچنے سے پہلے 15 سے 20 آباد کاروں کے ایک گروپ نے کارکنان کے ساتھ ساتھ گاؤں میں بلال کے گھر پر حملہ کیا۔
غیر ملکی کارکن فلسطینیوں کے ساتھ رہنے کے لیے مسافر یطا کی کمیونٹیز میں باقاعدگی سے قیام کرتے ہیں۔ وہ ان کی فصلوں کی نگہداشت اور پرورش کرتے یا ان کی بھیڑیں چراتے ہیں اور آبادکاروں کے تشدد کے واقعات کو دستاویز کرتے ہیں۔
انسانی حقوق کے گروپوں نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیل-حماس جنگ شروع ہونے کے بعد سے مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ ایک علیحدہ فلسطینی علاقہ ہے۔