حجاج کرام کی رمضان کے دوران مکہ مکرمہ کے ثقافتی خزانے کی دریافت
ہر مقام ایک کہانی اور اہم اسلامی یادداشت کا حامل ہے: ٹور گائیڈ
مقدس شہر مکہ میں حجاج کرام اپنے قیام سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے تاریخی اور ثقافتی مقامات کو سیر کر رہے ہیں۔
مکہ مکرمہ میں آثارِ قدیمہ کے مقامات پر لوگوں کا مستقل ہجوم دیکھنے کو ملا ہے اور وہ بسوں کے ذریعے اہم تاریخی مقامات کے منظم دوروں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ یہ سیر و تفریح اہم مقامات کے بارے میں ثقافتی شعور میں اضافہ اور زائرین کو شہر کی میراث سے منسلک ہونے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
مکہ کے ماہر تاریخ دان ڈاکٹر فواز الدحاس نے اس بات کی اہمیت کو نمایاں کیا کہ حجاج کرام کو شہر کی تاریخ کے اہم ابواب دریافت کرنے میں مدد اور راہنمائی فراہم کر کے ان کے تجربات کی خوبصورتی میں اضافہ ہوتا ہے۔
خصوصی سیاحتی پروگرام اس بات کو ممکن بناتے ہیں کہ زائرین حجازِ مقدس کے ورثے سے تعلق مضبوط بناتے ہوئے اپنے قیام سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کریں۔
الدحاس نے اس بات پر زور دیا کہ آثارِ قدیمہ کے مقامات کے دورے اور اس کی ثقافتی اہمیت کو اجاگر کرنے والے خزائبن اور عجائب گھروں کی دریافت کی کیا اہمیت ہے۔
اس سے لوگوں کو اس شہر کو صحیح معنوں میں سمجھنے میں مدد ملی جسے انہوں نے ایک "عالمی ورثے کی کان" قرار دیا۔ یہ ان تاریخی آثار کا حامل ہے جن سے یہ تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے زیارت کا ایک اہم ترین مقام بن جاتی ہے۔
مکہ میں مذہبی اور تاریخی اہمیت کے قدرتی مقامات بھی ہیں مثلاً جبل النور، غارِ حرا اور حرا کلچرل کلب کے علاوہ جبلِ ثور۔
انہوں نے مزید کہا کہ منفرد جغرافیے کے باعث اس کے تمام پہاڑوں اور وادیوں میں ایک روحانیت ہے جبکہ روایتی بازار شام اور یمن کے درمیان تجارتی مرکز کے طور پر کام کرتے تھے اور قدیم اسلامی قلعے ایک شاندار ماضی کی کہانی بیان کرتے ہیں۔
ٹور گائیڈ مہدی نافع القریشی نے بتایا کہ کس طرح مکہ نے اسلامی تاریخ میں حضرت ابراہیم کی دعوت سے لے کر حضرت محمد اور ان کے ساتھیوں کی زندگی تک کے اہم لمحات کا مشاہدہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مکہ مکرمہ کا ہر مقام ایک کہانی اور اہم اسلامی یاد کا حامل ہے کیونکہ مقدس شہر اور خانہ کعبہ کے اطراف کی طرف جانے والے راستے اہم واقعات سے منسلک مقامات سے بھرپور ہیں۔
ایک مصری حاجی محمد سلامہ نے کہا کہ دستیاب سہولیات اور الیکٹرانک ویزوں کی بدولت مقدس مقامات کی زیارت آسان ہو گئی ہے۔ انہوں نے اس بات کی تعریف کی کہ کس طرح ہر کسی نے حجاج کے آرام اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کیا کہ ان کا تجربہ اتنا ہی اچھا ہو جتنا ہو سکتا تھا۔
زائرین کی تعداد لاکھوں میں ہونے کے باوجود انہوں نے دورے کے انتظامات کو "غیر معمولی قرار دیا جو روحانی عبادت اور مکہ کے تاریخی ورثے کی تلاش کا ایک شاندار امتزاج" ہے۔
برطانیہ میں مانچسٹر سے اپنا اولین دورہ کرنے والی عراقی خاتون رباب حسین نے تاریخی اور روحانی گہرائی کے درمیان ہم آہنگی کو مکہ اور مدینہ کی انفرادیت قرار دیا۔
انہوں نے کہا، "اس جگہ کی اپنی عظمت اور قدیم تاریخی اہمیت ہے اور اس کے پہاڑ اور پتھر آپ کو انبیاء و رسل کی تاریخی داستانیں سناتے ہیں۔"
انہوں نے مزید کہا کہ اس جگہ کا پہلی بار آنے والے زائرین پر ایک خاص اثر تھا اور مکہ مکرمہ جانا رسومات ادا کرنے سے بہت بڑھ کر تھا جو اس کی تاریخ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا ایک موقع تھا۔