غزہ : اجتماعی قبریں جنگ کے غیر محدود ہوجانے کی مظہر ہیں: اقوام متحدہ حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوام متحدہ کے غزہ میں امدادی حکام نے غزہ میں قائم کی گئی ایک اجتماعی قبر سے طبی عملے کے 15 ارکان کی لاشیں ملی ہیں۔ طبی عملے کے ارکان کی یہ لاشیں اجتماعی قبر سے اس واقعے کے بعد نکالی گئی ہیں جب اسرائیلی فوج نے طبی عملے کی ایمبولینس پر فائرنگ کی گئی تھی اور لاشوں کو اجتماعی قبر میں ڈال دیا گیا ۔

اقوام متحدہ کے حکام نے اس صورت حال کے بارے میں بدھ کے روز کہا ہے' جنگ حدوں کو عبور کر چکی ہے۔'

حکام نے کہا ' یہ طبی عملے کے کارکنوں کی یہ حالت انتہائی صدمے کا باعث ہے۔ ان طبی کارکنوں نے اپنی ہلاکت کے وقت یونیفارم پہلے ہونے ہونے کے ساتھ ساتھ ہاتھوں پردستانے بھی پہنے ہوئے تھے۔ میں ہی اجتماعی قبر میں ڈالا گیا ہے۔ انہیں اسرائیلی فوج نے اس وقت قتل کیا جب وہ فلسطینیوں کی جان بچانے کی کوشش میں مصروف تھے۔

اقوام متحدہ کے مقامی افسر جوناتھن وٹ ہال طبی عملے کے ان ارکان میں سے 8 ارکان کا تعلق فلسطینی ہلال احمر سے تھا جبکہ ایک کا تعلق اقوام متحدہ سے تھا۔ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے اس بارے میں بدھ کے روزطبی ارکان کے حوالے سے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سیکرٹری جنرل کے اس سلسلے میں جاری کردہ بیان میں کہا ہے ' اسرائیلی فوج کی طرف سےطبی عملے کے ارکان کے ایمر جنسی قافلے پر بمباری سخت حیران کن اور تکلیف کا باعث ہے۔ اس حملے کی وجہ سے 15 طبی کارکنوں سمیت 23 افراد ہلاک ہوئے۔ '

دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارے ' اوچھا ' نے منگل کے روز کہا کہ اسرائیلی فوج نے 23 مارچ کو بھی بمباری کر کے طبی عملے کی ایمر جنسی ٹیم کو نشانہ بنایا تھا۔ '

غزہ میں کئی روز کی جنگ بندی کے بعد 18 مارچ سے اسرائیل نے از سر نو غزہ میں جنگ شروع کر رکھی ہے۔ غزہ کے بڑے علاقے میں یہ جنگی جارحیت جاری ہے۔

وٹ ہال نے مزید کہا ' غزہ کے 64 فیصد علاقوں سے فلسطینیوں کو نقل مکانی کے جبری احکامات دیے گئے ہیں۔ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے 20000 فلسطینی ایک بار پھر نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ منگل کے روز سے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام چلنے والی 25 بیکریوں کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے اس ذمہ دار نے مزید کہا ' یہ ایک ختم نہ ہونے والی خونریزی ہے۔ یہ ہلاکتیں درد ناک ہیں، غزہ کو موت کا جال بنا دیا گیا ہے۔ یہ انسانیت کے خلاف ہے ، یہ شائستگی کے خلاف ہے اورقانون کے خلاف ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں