عرب لیگ : لبنان اور شام میں اسرائیلی حملے عدم استحکام کی کوشش ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابوالغیط نے کہا ہے کہ اسرائیل لبنان اور شام میں عدم استحکام اور اشتعال پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ سب بین الاقوامی قانون اور اقدار کے خلاف ہے۔

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی خاموشی نے اسرائیل کو مزید دیدہ دلیر بنا دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی مقبوضہ فلسطین کے علاقوں کے علاوہ لبنان اور شام میں بھی اسرائیلی اشتعال انگیز جنگی کارروائیاں پھر بڑھ رہی ہیں۔ یہ مکمل بے رحمانہ جارحیت ہے۔ اسرائیل کی طرف سے جان بوجھ کر پہلے سے کیے گئے معاہدوں کی خلاف ورزی کی جارہی ہے اور دوسرے ملکوں کی خود مختاری اور شہریوں پر حملہ ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان میں ہدفی قتل و غارت گری ناقابل قبول ہے جو پچھلے سال کے جنگ بندی معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہے۔ حالانکہ اس پر اسرائیل نے خود دستخط کیے تھے۔

ابوالغیط نے اپنے بیان میں کہا ' اسرائیلی کارروائیاں شہریوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا باعث بن رہی ہیں اورعلاقے کی بد امنی پھیل رہی ہے۔ یہ اسرائیل کے چھوٹے ایجنڈے کی بہت بڑی قیمت ہے۔'

سیکرٹری جنرل نے کہا ' ایسا لگتا ہے اسرائیلی جنگی مشین اس وقت تک رکنا نہیں چاہتی جب تک کہ قابض رہنما انہیں بیرون ملک برآمد کرکے اپنے اندرونی بحرانوں کا سامنا کرنے پر اصرار کرتے رہیں اور یہ صورتحال سب پر واضح ہوچکی ہے۔'

یاد رہے پچھلے ہفتے غزہ کی وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیل کی فوج نے غزہ جنگ کے دوران 50000 سے زیادہ فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے۔ جبکہ زخمیوں کی اس دوران تعداد 113200 سے زیادہ ہو چکی ہے۔

دوسری جانب لبنان میں اسرائیل نے 8 اکتوبر 2023 سے 26 نومبر 2024 تک اسرائیل کی جنگ میں کم از کم 3961 افراد ہلاک اور 16520 زخمی ہوچکے ہیں۔ادھر شام کی نئی حکومت نے اسرائیل کے بارے میں کہا ہے 3 اپریل کو ایک ہوائی اڈے سمیت متعدد فوجی اہداف پر حملے کر کے 13 افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں