ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا اعلی سطح کی بالواسطہ بات چیت کے سلسلے میں 12 اپریل بروز ہفتہ عُمان میں اکٹھا ہوں گے۔
یہ موقف امریکی صدر کی بتائی ہوئی بات کے بر خلاف ہے جنھوں نے "براہ راست بات چیت" کا ذکر کیا تھا۔
عراقچی نے آج منگل کے روز "ایکس" پلیٹ فارم پر پوسٹ میں کہا کہ "یہ ایک موقع کے ساتھ ساتھ امتحان بھی ہے ... گیند امریکا کے کورٹ میں ہے"۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز باور کرایا تھا کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ "براہ راست بات چیت" کر رہا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "ایک انتہائی اعلی سطح کا اجلاس" ہفتے کے روز منعقد ہو گا۔ یہ ایک حیران کن اعلان تھا کیوں کہ اس سے قبل ایرانی ذمے داران اس نوعیت کے مذاکرات کے لیے امریکی دعوت کو مسترد کر رہے تھے۔
ٹرمپ کا موقف ہے کہ وہ فوجی تصادم کے مقابلے میں ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ایک معاہدے تک پہنچنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
امریکی صدر نے سات مارچ کو بتایا تھا کہ انھوں نے ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کو ایک خط میں بات چیت کی تجویز پیش کی ہے۔ اس وقت ایرانی ذمے داران کا کہنا تھا کہ تہران دھمکی کے زور پر مذاکرات کی طرف نہیں جائے گا۔
سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے دور میں امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ بات چیت ہوئی تھی تاہم اس میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہو سکی تھی۔ فریقین کے بیچ آخری براہ راست مذاکرات سابق صدر باراک اوباما کے دور میں ہوئے۔ اوباما نے تہران اور عالمی قوتوں کے بیچ 2015 میں جوہری معاہدے کی کوششوں کی قیادت کی تھی۔ بعد ازاں ٹرمپ صدر بننے کے بعد 2018 میں اس معاہدے سے نکل گئے تھے۔