امریکہ نے نیویارک میں شام کے مشن کی قانونی حیثیت کو اقوام متحدہ کے رکن ریاست کے مستقل مشن سے ایک غیر تسلیم شدہ حکومت کے مشن میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس اقدام پر بڑا تنازع پیدا ہوگیا۔ اب اس پر دمشق نے بھی تبصرہ کردیا۔
خالصتاً تکنیکی اور انتظامی طریقہ کار
شام کی وزارت خارجہ کے ایک ذمہ دار ذریعے نے پیر کے روز اعلان کیا کہ نیویارک میں شامی مشن کی قانونی حیثیت میں ترمیم کرنے کا طریقہ کار خالصتاً تکنیکی اور انتظامی ہے۔ یہ سابق الحاق شدہ مشن سے متعلق ہے اور یہ نئی شامی حکومت کی جانب موقف میں کسی تبدیلی کی عکاسی نہیں کر رہا۔
هناك لجنة في الأمم المتحدة اسمها لجنة أوراق الاعتماد The Credentials Committee يتم انتخابها سنوياً من قبل الجمعية العامة عند بداية دورتها، ورغم انها جزء من الجمعية العامة لكن بامكانها اتخاذ قرارات ذات اثر كبير له علاقة بشرعية ممثلي الدول الأعضاء في حال سقوط نظام ما. ما حصل…
— Makdissi (@Makdissi) April 7, 2025
ذریعہ نے بتایا کہ شام کی وزارت خارجہ اس مسئلے کو حل کرنے اور اس کے مکمل سیاق و سباق کو واضح کرنے کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ متعلقہ سیاسی یا قانونی پوزیشنوں کے بارے میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے اپنے وطن کی تعمیر نو کے لیے شامی عوام کی امنگوں کے حصول کے لیے بین الاقوامی فریم ورک کے اندر سفارتی کام اور ہم آہنگی جاری رکھنے کے عزم پر زور دیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت بیرون ملک شامی مشنز کی حیثیت کا ایک جامع جائزہ لیا جا رہا ہے جس میں شامیوں کی امنگوں کی عکاسی کرنے، بین الاقوامی سطح پر اداروں اور مشنز کی موجودگی کو بڑھانے اور موثر کارکردگی کو دیکھا جارہا ہے۔ واضح سیاسی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے ان مشنز کی تنظیم نو کے سنجیدہ فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
یہ سب اس وقت سامنے آیا جب واشنگٹن نے نیویارک میں شامی مشن کو اقوام متحدہ کے ذریعے دیے گئے ایک میمورنڈم سے آگاہ کیا جس میں کہا گیا تھا کہ اس کی قانونی حیثیت رکن ریاست کے مستقل مشن سے بدل کر ایسی حکومت کے مشن میں تبدیل ہو جائے گی جسے امریکہ تسلیم نہیں کرتا۔
هذا مجرد تحليل من سوابق حصلت بتاريخ الأمم المتحدة مع دول سقطت انظمتها السياسية ، علماً ان أميركا حالياً عضوة بتلك اللجنة المكونة من ٩ دول تُنتخب كل عام من الجمعية العامة. عكل حال التوضيح يجب ان يصدر كما تستنسب السلطات السورية.
— Makdissi (@Makdissi) April 7, 2025
میمورنڈم میں مشن کے ممبران کو دیے گئے G1 ویزوں کی منسوخی بھی شامل تھی جو اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ سفارت کاروں کے لیے نامزد کیے گئے ہیں اور جن کی حکومتیں میزبان ملک میں تسلیم شدہ ہیں G3 ویزا کیٹیگری ان غیر ملکی شہریوں کو دی جاتی ہے جو اقوام متحدہ سے ویزا حاصل کرنے کے اہل ہیں لیکن جن کی حکومتیں اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ نہیں ہیں۔
مزید برآں اس فیصلے نے سوشل میڈیا اور شامیوں کے درمیان بڑے پیمانے پر تنازع پیدا کردیا۔ تبصروں کے ساتھ نئی انتظامیہ پر زور دیا گیا کہ وہ حکومت کے خاتمے کے بعد سفارتی مشن کی حیثیت کا دوبارہ جائزہ لے۔
-
شام میں 100 خطرناک کیمیکل سائٹس کو سیٹلائٹ سے بھی شناخت نہیں کیا جا سکتا: عالمی انتباہ
شام کی نئی انتظامیہ کی جانب سے سابق صدر بشار الاسد کے دور میں جمع ہونے والے ...
بين الاقوامى -
اسرائیلی پیغامات کے بعد کیا ترکیہ شام میں اڈے قائم کرنے سے پیچھے ہٹ جائے گا؟
اسرائیل نے گزشتہ ہفتے اس وقت شام پر اپنے فضائی حملے تیز کر دیے تھے جب یہ رپورٹ ...
بين الاقوامى -
عرب لیگ : لبنان اور شام میں اسرائیلی حملے عدم استحکام کی کوشش ہیں
عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابوالغیط نے کہا ہے کہ اسرائیل لبنان اور شام میں عدم ...
مشرق وسطی