غزہ میں 36 اسرائیلی حملوں میں 'صرف خواتین اور بچوں کی' موت واقع ہوئی: اقوامِ متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوامِ متحدہ نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ اس کے غزہ میں 36 اسرائیلی حملوں کے تجزیئے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں صرف خواتین اور بچے ہی ہلاک ہوئے۔ عالمی ادارے نے ساتھ ہی جنگ کی انسانی قیمت کی مذمت بھی کی۔

اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے حقوق نے یہ بھی خبردار کیا کہ اسرائیل کے انخلاء کے احکامات میں توسیع کے نتیجے میں جنگ سے تباہ حال فلسطینی سرزمین پر سکڑتی ہوئی جگہوں پر لوگوں کو "زبردستی منتقل" کیا جا رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی ترجمان روینہ شمداسانی نے خبردار کیا کہ غزہ پر فوجی حملوں سے "کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں رہی۔"

انہوں نے جنیوا میں نامہ نگاروں کو بتایا، "18 مارچ سے نو اپریل 2025 کے درمیان رہائشی عمارات اور اندرونی طور پر بے گھر افراد کے خیموں پر اسرائیلی حملوں کے تقریباً 224 واقعات ہوئے۔"

انہوں نے کہا، "تقریباً 36 حملوں میں جن کے بارے میں اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے معلومات کی تصدیق کی، اب تک ریکارڈ کی گئی ہلاکتیں صرف خواتین اور بچوں کی تھیں۔"

شمداسانی نے دیر البلح میں ابو عیسیٰ خاندان کی رہائشی عمارت پر چھے اپریل کو ہونے والے حملے کا حوالہ دیا جس میں مبینہ طور پر ایک لڑکی، چار خواتین اور ایک چار سالہ بچہ ہلاک ہو گئے۔

انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اسرائیلی "انخلاء کے احکامات" کی بڑھتی ہوئی تعداد کے درمیان فلسطینیوں کو جن علاقوں میں جانے کی ہدایت کی جا رہی ہے، وہ بھی حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔

انہوں نے کہا، "اسرائیلی فوج کی شہریوں کو خان یونس کے علاقے المواصی میں منتقل ہونے کی ہدایت کے باوجود اس علاقے میں خیموں پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا جس میں بے گھر افراد رہائش پذیر ہیں اور 18 مارچ سے کم از کم 23 ایسے واقعات ریکارڈ کیے گئے۔"

شمداسانی نے 31 مارچ کو غزہ کی جنوبی ترین گورنری رفح کے حوالے سے اسرائیلی فوج کے حکم کا حوالہ دیا جس کے بعد بڑے پیمانے پر زمینی کارروائی کی گئی۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ اس کے فوجی غزہ میں "بڑے علاقوں" پر قبضہ اور انہیں فسلطینی باشندوں سے خالی کروائے گئے بفر زونز میں شامل کر رہے ہیں۔

اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے بدھ کو کہا تھا، "بڑے علاقوں پر قبضہ کر کے انہیں اسرائیل کے سکیورٹی زونز میں شامل کیا جا رہا ہے جس سے غزہ چھوٹا اور زیادہ الگ تھلگ ہو گیا ہے۔"

شمداسانی نے کہا، "ہمیں واضح ہونا چاہیے، انخلاء کے یہ نام نہاد احکامات دراصل نقلِ مکانی کے احکامات ہیں جس کے نتیجے میں غزہ کی آبادی سکڑتی ہوئی جگہوں پر منتقل ہو رہی ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "مقبوضہ علاقوں میں شہری آبادی کو مستقل طور پر بے گھر کرنا زبردستی منتقلی کے مترادف ہے جو چوتھے جنیوا کنونشن کی سنگین خلاف ورزی ہے اور یہ انسانیت کے خلاف جرم ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں