حماس کی جاری کردہ نئی ویڈیو میں امریکی شہریت کا حامل اسرائیلی قیدی زندہ دکھایا گیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا نے اس قیدی کی شناخت کرتے ہوئے اسے امریکی شہریت کا حامل ایڈن الیگزنڈر بتایا گیا ہے۔
یہ ویڈیو حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے جاری کی ہے۔ تین منٹ سے زائد کی ویڈیو اسرائیلی قیدی کو ایک تنگ سی جگہ پر بیٹھے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
تاہم خبر رساں ادارے ' اے ایف پی ' نے اپنی خبر میں کہا ہے کہ آزاد ذرائع سے اس نے ابھی تصدیق نہیں کی جا سکی۔ نہ ہی یہ معلوم کیا جا سکا ہے کہ یہ ویڈیو کب بنائی گئی ہے۔
ویڈیو میں اسرائیلی قیدی اپنے گھر واپس جانے کی التجا کر رہا ہے۔ تاکہ اپنی چھٹیاں خوشی خوشی گھر میں گذار سکے۔
یاد رہے ان دنوں اسرائیل میں مزہبی طور پر چھٹیاں چل رہی ہیں۔ یہ چھٹیاں مصر کی غلامی سے یہودیوں کی نجات کی خوشی اور یاد میں منائی جاتی ہیں۔
ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی قیدی وہ لمبی قید کی وجہ سے خود کو سخت دباؤ میں ہے۔ وہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہوکی قیدیوں کی رہائی میں ناکامی پر بھی سخت نالاں نظر آتا ہے۔
اس ویڈیو کو اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز کے اس اعلان کے محض چند گھنٹے کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ جس میں انہوں نے اسرائیلی فوج کے موگاس راہداری کو قبضے میں لینے کا اعلان کیا تھا۔ یہ نئی راہداری رفح اور خان یونس کے درمیان ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے اسی اعلان کے ساتھ غزہ میں اسرائیلی جنگ کو وسیع تر کرنےکا بھی اعلان کیا ہے۔
دریں اثنا حماس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی جنگی جارحیت نہ صرف غزہ کے عام شہریوں کے لیے خطرناک ہے بلکہ خود غزہ میں قید اسرائیلیوں کے لیے بھی خطر کا باعث ہے۔
واضح رہے یہی موقف اسرائیل میں موجود ان خاندانوں کے فورمز کی طرف سے پیش کیا جا چکا ہے کہ جنگ روکی جائے اور قیدی چھڑانے کے مذاکرات کا راستہ لیا جائے بصورت دیگر اسرائیلی قیدیوں کو بھی گزہ پر بمباری سے خطرہ ہ گا۔
یاد رہے اب غزہ میں 58 قیدی رہ گئے ہیں ۔ جن میں سے 34 کے بارے میں اسرائیلی فوج کا خیال ہے کہ وہ مارے جا چکے ہیں۔