امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان توانائی اور شہری جوہری ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون سے متعلق جاری مکالمے کے تناظر میں، امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے اسے ایک تزویراتی قدم قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کی طویل مدتی شراکت داری کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ رائٹ نے اس بات کی بھی نشان دہی کی کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون میں سعودی عرب کے اندر پُر امن جوہری توانائی کی صنعت کو مقامی سطح پر فروغ دینا بھی شامل ہے۔
سعودی عرب نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ وہ پُر امن مقاصد کے لیے جوہری توانائی اور اس کی ریڈیالوجیکل ایپلی کیشنوں سے فائدہ اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس لیے کہ اس کا سماجی و اقتصادی ترقی میں اہم کردار ہے۔ اس کے ساتھ ہی سعودی عرب نے اپنے قومی جوہری توانائی منصوبے پر عمل درآمد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس میں پہلے جوہری پاور پلانٹ کی تعمیر بھی شامل ہے۔
اسی تناظر میں، سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ سعودی عرب پُر امن مقاصد کے لیے جوہری توانائی اور اس کی ریڈیالوجیکل ایپلی کیشنوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے پیش رفت کو یقینی بنا رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ منصوبے میں مملکت کا پہلا جوہری پاور پلانٹ بھی شامل ہے، جو قومی توانائی کے مرکب کی تشکیل اور پائے دار قومی ترقی کے حصول کے لیے قومی تقاضوں اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے دائرے میں بنایا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آئندہ ماہ سعودی عرب کے دورے سے قبل امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے العربیہ نیوز سے خصوصی گفتگو کی۔ انھوں نے بتایا کہ امریکہ آئندہ ہفتوں کے دوران میں توانائی کے شعبے میں جامع تعاون کے ایک سمجھوتے پر دستخط کی تیاری کر رہا ہے۔ غالبا اس کے بعد چند ماہ کے اندر جوہری توانائی کے لیے متعین کردہ معاہدہ طے پائے گا۔
امریکی وزیر نے واضح کیا کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان توانائی کے شعبے میں ایک تاریخی شراکت داری قریب ہے، یہ مملکت میں تجارتی جوہری توانائی کی ترقی کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
دوسری جانب، سعودی سیاسی تجزیہ کار جاسر الجاسر نے توانائی اور جوہری ٹیکنالوجی کے سلسلے میں امریکی - سعودی شراکت کو ایک مرکزی قدم اور ایک اہم نوعیت کی پیش رفت قرار دیا ہے۔ العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے جاسر نے کہا کہ "سعودی عرب کے پاس جوہری توانائی حاصل کرنے کے لیے کئی آپشن موجود تھے، جن میں واشنگٹن سرفہرست تھا۔ اس شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان شراکت ایک فیصلہ کن قدم اور ایک بڑی پیش رفت ہے۔ جہاں تک اسرائیل کے ساتھ تعلقات اور سعودی عرب کے جوہری توانائی حاصل کرنے کا تعلق ہے، تو یہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں۔ ماضی میں بھی سعودی عرب کے پاس مختلف متبادل موجود تھے"۔
امریکی وزیر توانائی کے بیان کے حوالے سے سعودی تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ "میرا خیال ہے کہ ہم عن قریب توانائی ، شراکت داری، سرمایہ کاری اور تحقیق کے شعبوں میں ایک وسیع تر تعاون کے معاہدے پر دستخط کریں گے ... اور جوہری توانائی بھی یقینا ان شعبوں میں شامل ہے۔ جہاں تک سعودی عرب میں تجارتی جوہری ترقی کے میدان میں مخصوص شراکت داری کے معاہدے تک پہنچنے کی بات ہے، تو اس میں کچھ زیادہ وقت لگے گا۔ یہ معاملہ ہفتوں میں نہیں بلکہ مہینوں میں طے پائے گا، لیکن ہم وہاں تک ضرور پہنچیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات کافی حد تک ممکن ہے"۔