شاہ فیصل انعام یافتگان کے اعزاز میں ریاض میں تقریب
سائنس، طب، اسلامی علوم سمیت دیگر شعبوں کے لیے دنیا کا معتبر ترین اسلامی اعزاز
ریاض میں شاہ سلمان کے زیرِ سرپرستی پیر کی شب منعقدہ کنگ فیصل پرائز کی تقریب میں چھے نامور شخصیات کو اعزاز سے نوازا گیا جن کی خدمات سے متعلقہ شعبوں میں نمایاں ترقی ہوئی اور انسانیت کو تقویت ملی۔
ریاض کے گورنر شہزادہ فیصل بن بندر نے تقریب کے 47ویں ایڈیشن میں فاتحین میں انعامات تقسیم کیے۔
مکہ مکرمہ کے گورنر شہزادہ خالد الفیصل، مشیر برائے خادم الحرمین الشریفین اور کے ایف پی بورڈ کے چیئرمین؛ کئی دیگر شہزادوں؛ سینئر سرکاری اہلکاروں اور ماہرینِ تعلیم اور سائنسدانوں نے الفیصلیہ سینٹر میں شہزادہ سلطان کے گرینڈ ہال میں ہونے والی تقریب میں شرکت کی۔
شاہ فیصل مرکز برائے تحقیق و اسلامی علوم کے چیئرمین شہزادہ ترکی الفیصل نے تقریب میں شرکت کرنے پر معززین کا شکریہ ادا کیا اور انعام کے فاتحین کو مبارکباد دی۔
خدمتِ اسلام، اسلامی علوم، طب اور سائنس کے شعبوں میں خدمات انجام دینے والے علماء اور ماہرین سعودی دارالحکومت میں فضیلت، علم اور خدمت کا جشن منانے کی غرض سے جمع ہوئے۔
اس سال کا خدمتِ اسلام انعام مشترکہ طور پر سعودی عرب کے دو افراد کو دیا گیا۔ معذور افراد کے لیے خدمات انجام دینے والی لأجلھم ایسوسی ایشن کو تبیان قرآن پروجیکٹ کے اعتراف میں اعزاز دیا گیا جس میں اشاروں کی زبان میں دنیا کی اولین مکمل قرآنی تفسیر تیار کی ہےجو مقدس متن کو سماعت سے محروم طبقے کے لیے قابلِ رسائی بنانے اور اسلامی تعلیم میں ان کی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے ہے۔
دوسرے انعام یافتہ سمیع عبداللہ المغلوث کو جنرل اتھارٹی برائے سروے اور جیو سپیشل انفارمیشن میں تاریخی اسلامی مقامات کی نقشہ سازی اور تحفظ میں شاندار کاوشوں کے لیے اعزاز سے نوازا گیا۔ ان کی دستاویزات ثقافتی تحفظ اور اسلامی ورثے کے بارے میں عوامی بیداری میں معاونت کرتی ہیں۔
جزیرہ نما عرب میں علومِ آثارِ قدیمہ کے لیے اسلامی علوم کا انعام بھی دو فاتحین کو مشترکہ طور پر دیا گیا۔ ایک سرکردہ سعودی ماہرِ آثار قدیمہ پروفیسر سعد عبدالعزیز الراشد کو اسلامی نوشتہ جات اور آثارِ قدیمہ کے ورثے کے مطالعہ میں ان کی بنیادی خدمات کے لیے تسلیم کیا گیا۔ اس کے کام نے سکالرز کی نئی نسل کے لیے ایک بنیاد قائم کی ہے اور خطے کی تاریخی دولت کی طرف بین الاقوامی توجہ مبذول کروائی ہے۔
اس شعبے میں ایک اور ممتاز سعودی شخصیت پروفیسر سعید فایز السعید کو عربی خطاطی کے تقابلی مطالعہ اور جزیرہ نما کی قدیم تہذیبوں کو ڈی کوڈ کرنے، قبل از اسلام تاریخ کو اسلامی آثارِ قدیمہ سے ملانے میں ان کے کام پر اعزاز سے نوازا گیا۔
عربی ادب میں شناخت کے مطالعہ کے عنوان پر عربی زبان و ادب کا انعام اس سال روک لیا گیا کیونکہ نامزد کردہ کام سلیکشن کمیٹی کے معیار پر پورے نہیں اترتے تھے۔
طب کے شعبے میں انعام سیلولر تھراپی کے لیے میموریل سلوان کیٹرنگ کینسر سینٹر میں سینٹر فار سیل انجینئرنگ کے ڈائریکٹر پروفیسر مائیکل سیڈیلین کو دیا گیا۔
انہیں CAR-T سیل تھراپی میں ان کے اہم کام کے لیے اعزاز سے نوازا گیا جو کینسر کا ایک کامیاب علاج ہے جس میں ٹیومر کو نشانہ بنانے اور تباہ کرنے کے لیے مدافعتی خلیوں کو جینیاتی طور پر تبدیل کرنا شامل ہے۔ ان کی تحقیق نے لیوکیمیا اور دیگر سابقہ لاعلاج بیماریوں کے علاج میں نئے امکانات کی راہ ہموار کی ہے جو طبی جدت میں ایک سنگِ میل ہے۔
اس سال طبیعیات پر مرکوز سائنس کا انعام جاپان کے پروفیسر سومیو آئیجیما کو دیا گیا۔ ان کی 1991 میں ان بیلناکار نینو سٹرکچرز کی دریافت نے نینو ٹیکنالوجی کے میدان میں انقلاب برپا کر دیا۔
شاہ فیصل انعام کے 1977 میں آغاز کے بعد سے 45 قومیتوں کے 301 انعام یافتہ افراد کو تسلیم کیا گیا ہے جنہوں نے اسلام، علم اور انسانیت کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔
پانچ انعامی زمروں میں سے ہر ایک انعام یافتہ کو ساڑھے ساتھ لاکھ سعودی ریال، چوبیس قیراط کے طلائی تمغے اور شہزادہ خالد الفیصل کے دستخط شدہ ایک سرٹیفکیٹ سے نوازا جاتا ہے۔
-
سعودی عرب : حجاج کے داخلہ اقدامات یکجا کرنے کے لیے "تصریح" پلیٹ فارم
سعودی عرب میں وزارتِ داخلہ نے حج کے اجازت ناموں کے لیے یکساں ڈیجیٹل پلیٹ فارم ...
مشرق وسطی -
سرحد پار بد عنوانی کے انسداد کے لیے سعودی عرب اور قازقستان کے درمیان تعاون
سعودی عرب اور قازقستان کے درمیان بد عنوانی کے انسداد اور مشترکہ تعاون کے حوالے سے ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب : گرد آلود آندھیوں کے سبب مشرقی حصے میں تدریس معطل
سعودی عرب میں دو صوبوں الشرقیہ اور الاحساء میں محکمہ تعلیم نے منگل کے روز طلبہ کی ...
مشرق وسطی