سعودی وزیر دفاع کا دورہ ہمارے تعلقات کے نئے باب کا آغاز ہے : ایرانی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب میں ایران کے سفیر علی رضا عنائتی نے سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کے دورہِ تہران کو "سعودی-ایرانی تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز" قرار دیا ہے۔ انھوں نے اس دورے کو "اہم دورہ" قرار دیا، کیوں کہ اس کے دوران اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں ہوئیں جن میں علاقائی امور، دو طرفہ تعلقات اور اسلامی دنیا کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ بات ایرانی سفیر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ خصوصی گفتگو میں کہی۔

ریاض اور تہران اپنی باہمی تعلقات کو خاص طور پر موجودہ جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے پیش نظر، ایک وسیع تر دائرے میں لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے مارچ 2023 سے سفارتی تعلقات کی بحالی کے فیصلے پر عمل درآمد کی طرف پیش رفت کرتے ہوئے، باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے کی خواہش کا اعادہ کیا ہے۔

ایرانی سفیر کا کہنا ہے کہ "ایرانی حکام سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ ہم اس دورے کو بے حد اہمیت دیتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ یہ دو طرفہ تعلقات کے لیے ایک نئی شروعات ثابت ہوگا"۔

اسی تناظر میں، ریاض میں ایرانی سفیر نے وضاحت کی کہ دونوں ممالک دو طرفہ تعلقات کے دائرہ کار میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جیسا کہ دفاعی اور عسکری تعاون کے شعبے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ "سعودی-ایرانی کردار" خطے میں امن و سلامتی کو فروغ دینے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔

اس دوران، سفیر نے دو طرفہ تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا "گذشتہ عمرہ سیزن میں 2 لاکھ سے زیادہ ایرانی شہریوں نے سعودی عرب کا دورہ کیا، اور دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست پروازوں کا دوبارہ آغاز بھی ہو چکا ہے، جیسے دمام اور مشہد کے درمیان پروازیں"۔

یاد رہے کہ 2023 میں بیجنگ معاہدے کے اعلان کے بعد، سعودی عرب اور ایران نے اس معاہدے کی تمام شقوں پر عمل درآمد کے عزم کا اظہار کیا تھا، اور یہ طے پایا تھا کہ دونوں ممالک اقوامِ متحدہ کے منشور، اسلامی تعاون تنظیم کے منشور اور بین الاقوامی قانون کی پابندی کریں گے، جن میں ریاستوں کی خود مختاری، آزادی اور سلامتی کا احترام شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں