اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف حالیہ سلسلہ وار بیانات کے بعد، ان کے دفتر نے وضاحت جاری کی ہے کہ "شاباک" (اسرائیلی داخلی سیکیورٹی ادارے) کے سربراہ رونین بار نے آج سپریم کورٹ میں "جھوٹی گواہی" دی ہے۔
وزیر اعظم کے دفتر نے مختصر بیان میں کہا کہ "یہ گواہی جلد تفصیل سے جھٹلائی جائے گی۔ تفصیلات کا انتظار کریں۔"
یہ سرکاری بیان رونین بار کی غیرمعمولی گواہی کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انھوں نے وزیر اعظم پر براہ راست سنگین الزامات عائد کیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سکیورٹی ادارے (شاباک) کے امور پر اثر انداز ہونے اور اس کے فیصلوں کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ بالخصوص عدالتی اصلاحات کے خلاف مظاہروں اور حماس کے ساتھ حساس نوعیت کی بات چیت کے معاملے میں۔
رونین بار نے الزام لگایا کہ ان سے حکومت مخالف مظاہرین کے بارے میں معلومات دینے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کو کہا گیا، اور بعض حلقے چاہتے تھے کہ وزیر اعظم اپنے خلاف جاری مقدمے میں گواہی نہ دیں ... اور اس کے لیے ایک ایسی دستاویز تیار کی جائے جو شاباک کے سربراہ کے طور پر ان کے نام سے جاری ہو۔
رونین بار نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ان پر دباؤ تھا کہ وہ حکومت کے فیصلوں کو اس وقت بھی تسلیم کریں جب وہ سپریم کورٹ کے احکامات سے متصادم ہوں۔ تجزیہ کاروں نے اسے اختیارات کی تقسیم کے اصول پر کاری ضرب قرار دیا ہے۔
مزید برآں، بار نے بتایا کہ انہیں قیدیوں کے تبادلے سے متعلق مذاکراتی ٹیم سے "بیرونی دباؤ" کے تحت نکال دیا گیا۔
شاباک چیف نے اپنی گواہی کا اختتام اس اعلان پر کیا کہ وہ اپنی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کے اس بیان نے سکیورٹی اور سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اسرائیل عدالتی، سیکیورٹی، اور سیاسی سطح پر سنگین بحرانوں سے دوچار ہے۔
-
نیتن یاہو کا غزہ جنگ کے ’نازک مرحلے‘ کا اعلان، حماس کی جنگ بندی شرائط مسترد
قیدیوں کو واپس لانے کے لیے نیتن یاہو پر شدید دباؤ
مشرق وسطی -
نیتن یاہو کا ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کا عزم
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ہفتے کے روز ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول ...
مشرق وسطی -
غزہ کا کنٹرول چھوڑنے کے لیے تیار ہیں:حماس کا ٹرمپ کے ایلچی کو پیغام
اسرائیل اور حماس کے درمیان حالیہ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد قطر کے چیف مذاکرات کار ...
بين الاقوامى