شاباک کے چیف نے جھوٹا بیان دیا، جلد جواب دیں گے : نیتن یاہو کے دفتر کا بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف حالیہ سلسلہ وار بیانات کے بعد، ان کے دفتر نے وضاحت جاری کی ہے کہ "شاباک" (اسرائیلی داخلی سیکیورٹی ادارے) کے سربراہ رونین بار نے آج سپریم کورٹ میں "جھوٹی گواہی" دی ہے۔

وزیر اعظم کے دفتر نے مختصر بیان میں کہا کہ "یہ گواہی جلد تفصیل سے جھٹلائی جائے گی۔ تفصیلات کا انتظار کریں۔"

یہ سرکاری بیان رونین بار کی غیرمعمولی گواہی کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انھوں نے وزیر اعظم پر براہ راست سنگین الزامات عائد کیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سکیورٹی ادارے (شاباک) کے امور پر اثر انداز ہونے اور اس کے فیصلوں کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ بالخصوص عدالتی اصلاحات کے خلاف مظاہروں اور حماس کے ساتھ حساس نوعیت کی بات چیت کے معاملے میں۔

رونین بار نے الزام لگایا کہ ان سے حکومت مخالف مظاہرین کے بارے میں معلومات دینے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کو کہا گیا، اور بعض حلقے چاہتے تھے کہ وزیر اعظم اپنے خلاف جاری مقدمے میں گواہی نہ دیں ... اور اس کے لیے ایک ایسی دستاویز تیار کی جائے جو شاباک کے سربراہ کے طور پر ان کے نام سے جاری ہو۔

رونین بار نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ان پر دباؤ تھا کہ وہ حکومت کے فیصلوں کو اس وقت بھی تسلیم کریں جب وہ سپریم کورٹ کے احکامات سے متصادم ہوں۔ تجزیہ کاروں نے اسے اختیارات کی تقسیم کے اصول پر کاری ضرب قرار دیا ہے۔

مزید برآں، بار نے بتایا کہ انہیں قیدیوں کے تبادلے سے متعلق مذاکراتی ٹیم سے "بیرونی دباؤ" کے تحت نکال دیا گیا۔

شاباک چیف نے اپنی گواہی کا اختتام اس اعلان پر کیا کہ وہ اپنی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کے اس بیان نے سکیورٹی اور سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اسرائیل عدالتی، سیکیورٹی، اور سیاسی سطح پر سنگین بحرانوں سے دوچار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں