حسب سابق رواں سال سات ممالک کے 11 ہوائی اڈوں پر " روڈ ٹو مکہ " اقدام پر عمل درآمد ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب کی وزارت داخلہ "روڈ ٹو مکہ " اقدام پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے - حج سیزن میں ’روڈ ٹو مک‘ پروگرام ضیوف الرحمان کی خدمات کا پروگرام ہے جو سعودی ویژن 2030 ء میں سے ایک ہے۔ یہ پروگرام پچھلے سات سال سے روبہ عمل ہے۔ امسال 7 ممالک میں ’روڈ ٹو مکہ‘ آپریشن عمل میں لایا جائے گا۔ ان میں مراکش، انڈونیشیا، ملائیشیا، پاکستان، بنگلہ دیش، ترکیہ اور کوٹ ڈی آئیوری کے11ہوائی اڈ ے شامل ہیں۔

’روڈ ٹو مکہ‘ اقدام کا مقصد مستفید ہونے والے ممالک سے آنے والے عازمین حج کو ان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اور ان کے آبائی ممالک میں آسانی اور سہولت کے ساتھ طریقہ کار کو مکمل کرکے اعلیٰ معیار کی خدمات فراہم کرنا ہے۔ عازمین حج اس پروگرام پر عمل کرتے ہوئے مختلف مراحل کو اپنے ممالک میں مکمل کرتے ہیں۔ ان مراحل کا آغاز بائیو میٹرک ڈیٹا لینے سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد عازم حج کو ای ویزہ جاری کیا جاتا ہے۔ پھر صحت سے متعلق میڈیکل رپورٹس مکمل کی جاتی ہیں ضروریات پوری ہونے کی تصدیق کے بعد روانگی والے ملک کے ہوائی اڈے پر پاسپورٹ کا طریقہ کار مکمل کیا جاتا ہے۔

اس اقدام میں مملکت میں نقل و حمل اور رہائش کے انتظامات کے مطابق سامان کو کوڈنگ اور چھان بین اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاقوں میں مخصوص راستوں کے ساتھ ساتھ ان کی رہائش گاہوں تک لے جانے کے لیے بسوں میں براہ راست منتقلی بھی شامل ہے۔ اس کے بعد پارٹنر ایجنسیاں اپنا سامان ان کی متعلقہ منزلوں تک پہنچاتی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ وزارت داخلہ ساتویں سال میں اس اقدام کو وزارت خارجہ، صحت، حج و عمرہ اور اطلاعات، جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن، زکوٰۃ، ٹیکس اور کسٹم اتھارٹی، سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اتھارٹی (ایس ڈی اے آئی اے) اور گوڈ اینڈو گرام کی وزارتوں کے تعاون سے نافذ کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں