اسرائیل: یروشلم اور تل ابیب کے درمیان جنگل میں آتشزدگی، مکینوں کا انخلا، سڑکیں بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیل میں یروشلم اور تل ابیب کے درمیان ہائی وے کے قریب جنگل کی آگ بھڑک اٹھی جس سے متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں ۔ وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے "ایمرجنسی کی حالت" کا اعلان کردیا ہے۔ اسرائیل کی میگن ڈیوڈ ایڈوم ایمرجنسی سروس نے کہا ہے کہ سینکڑوں شہری آگ سے خطرے میں ہیں۔ سروس نے مزید کہا کہ 22 افراد کا علاج کیا جا رہا ہے۔ جن میں سے 12 کو دھویں کے باعث سانس لینے میں دشواری تھی ۔

وزیر دفاع نے فوج کی کمان کو ہدایت کی ہے کہ وہ آگ بجھانے والے عملے کی مدد کے لیے دستے تعینات کریں تاکہ آگ پر قابو پایا جا سکے۔ یسرائیل کٹز نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ ہم ہنگامی حالت میں ہیںجان بچانے اور آگ پر قابو پانے کے لیے تمام ممکنہ قوتوں کو متحرک کیا جانا چاہیے۔ آگ کی وجہ سے مرکزی شاہراہ بند کر دی گئی اور سڑک کے کنارے رہنے والے مکینوں کو نکال لیا گیا۔

اسرائیلی پولیس نے پلیٹ فارم "ایکس" پر کہا کہ روٹ ون اور بیت المقدس کی پہاڑیوں کے علاقے میں آگ پھیلنے کی وجہ سے پولیس کی بڑی فورس زمین پر کام کر رہی ہے۔ عوام سے کہا جاتا ہے کہ وہ اس علاقے میں سفر کرنے سے گریز کریں۔ ایجنسی فرانس پریس کے مطابق آگ کے شعلوں نے اللطرون اور بيت شيمش کے درمیان سڑک کے ساتھ جنگلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ بہت سے ڈرائیور اپنی گاڑیاں سڑک کے بیچوں بیچ چھوڑ کر آگ کے شعلوں سے دور بھاگ گئے۔

گھٹا ٹوپ دھوئیں نے علاقے کو ڈھانپ لیا۔ حد نگاہ میں بہت زیادہ رکاوٹ پیدا ہوگئی اور علاقے میں پھنسے لوگوں میں دم گھٹنے کے باعث حالت خراب ہوگئی اسرائیلی فوجی آگ لگنے کے مقام پر پہنچ گئی ہے۔ اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ یروشلم سے تقریباً 30 کلومیٹر مغرب میں واقع رہائشی علاقوں کو خالی کرا لیا گیا ہے۔

اسرائیلی پولیس کے ایک بیان کے مطابق جنگل کے علاقے میں زیادہ درجہ حرارت اور تیز ہواؤں کی وجہ سے آگ پھیل گئی جس سے کم از کم پانچ کمیونٹیز کو انخلا کرنا پڑا ہے۔ وزیر اعظم نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ فائر فائٹنگ طیارے اٹلی اور کروشیا سے کوششوں میں مدد کے لیے پہنچیں گے۔ گزشتہ ہفتے اسرائیلی پولیس نے یروشلم کے قریب کئی قصبوں کو خالی کرالیا تھا کیونکہ جنگل میں آگ پھیل گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں