’GODT‘ آبزرویٹری کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب زندہ اعضاء کے عطیات کے انڈیکس میں عالمی سطح پر تیسرے نمبر پر ہے۔ زندہ عطیہ دہندگان کےتناسب میں 2023 ءکے مقابلے میں گذشتہ سال تقریباً 4.9 فیصد اضافہ ہوا۔ 2024ء میں زندہ عطیہ دہندگان کے ذریعے تقریباً 1,706 ٹرانسپلانٹس کیے گئے۔
سنہ2024 ءمیں 1,284 ٹرانسپلانٹس
اسی تناظر میں گردے کی پیوند کاری زندہ اعضاء کے عطیات کے تناسب میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ سعودی سینٹر فار آرگن ٹرانسپلانٹیشن کے مطابق گذشتہ سال زندہ گردوں کے عطیات کی کل تعداد تقریباً 1,284 تک پہنچ گئی، جبکہ اسی عرصے کے دوران زندہ جگر کے عطیات کی تعداد تقریباً 422 تک پہنچ گئی۔
ڈیجیٹل ایپ ’اثر‘
ایک متعلقہ تناظر میں سعودی عرب کے اعضاء کی پیوند کاری کانفرنس کے دوران، سعودی عرب نے اعضاء کے عطیہ اور پیوند کاری کے عمل کو منظم کرنے کے لیے "اثر" ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا آغاز کیا۔ یہ پلیٹ فارم اعضاء کے عطیہ اور پیوند کاری کے عمل کے معیار کو بڑھاتا اور بہتر بناتا ہے، جبکہ صحت کے تمام شعبوں اور عطیہ دہندگان سے متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون کرتا ہے۔ یہ فائدہ اٹھانے والوں کے لیے جامع دیکھ بھال کو بھی یقینی بناتا ہے اور صحت کے وسائل کے استعمال کو بہتر بناتا ہے۔
540,000 بعد از مرگ عطیہ دہندگان
جامع نگہداشت فراہم کرنے اور قومی اعضاء کی پیوند کاری کے پروگراموں کو فروغ دینے کے لیے وقف مرکز نے انکشاف کیا ہےکہ سعودی عرب میں موت کے بعد اعضاء عطیہ کرنے کے خواہشمند افراد کی کل تعداد تقریباً 540,000 ہے۔ سعودی سینٹر فار آرگن ٹرانسپلانٹیشن کا مقصد مریضوں کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی ضرورت کو کم کرنا ہے۔
مزید برآں، آرگن ٹرانسپلانٹ سینٹر نے وضاحت کی کہ پچھلے سال فوت شدہ عطیہ دہندگان کی جانب سے اعضاء کی پیوند کاری کی تعداد میں 12.3 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔