حوثی میزائلوں کے جواب میں ایران پر حملہ کردیا جائے: سابق اسرائیلی فوجی سربراہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی فوج کی جانب سے یمن سے داغے گئے ایک میزائل کو روکنے میں ناکامی اور اس کے تل ابیب ہوائی اڈے کے قریب گرنے کی تصدیق کے بعد اسرائیلی فوج کے سابق چیف آف سٹاف اور نیشنل یونٹی پارٹی کے رہنما بینی گینٹز نے جواب میں ایران پر حملہ کرنے پر زور دیا ہے۔

انہوں نے اتوار کے روز پلیٹ فارم "ایکس" پر کہا کہ اسرائیل پر میزائلوں کا داغا جانا تہران میں ایک سخت ردعمل کا باعث بننا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران (جو یمن میں حوثیوں کی حمایت کرتا ہے) ہی اسرائیل پر بیلسٹک میزائل داغ رہا ہے اور اسے یہ ذمہ داری قبول کرنا چاہیے۔

بن گوریون ہوائی اڈے کے قریب

یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ یمن سے داغا گیا گولہ بن گوریون ایئرپورٹ کے قریب گرا ہے۔ اسرائیلی فوج نے کہا میزائل کو روکنے کی کئی کوششیں کی گئی تھیں۔ اب اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اس موقع پر اسرائیلی علاقوں کی ایک تعداد میں سائرن بجے اور تل ابیب کے نواحی علاقوں میں ایمرجنسی کا اعلان کر دیا گیا۔

دریں اثنا اطلاع ملی ہے کہ تل ابیب میں میزائل گرنے سے ایک اسرائیلی معمولی زخمی ہو گیا ہے۔ سات اکتوبر 2023 کو غزہ کی پٹی میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے حوثیوں نے یمن سے کئی میزائل داغے ہیں تاہم چند ایک سے ہی معمولی نقصان ہوا ہے۔ امریکہ نے حوثی گروپ کے ٹھکانوں پر کئی فضائی حملے کیے ہیں اور گزشتہ مارچ 2025 کے وسط سے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر ایک ہزار سے زیادہ فضائی حملے کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں