غزہ پر اسرائیلی کارروائی کے منصوبے پر یرغمالیوں کے اہل خانہ کی شدید تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

غزہ کی پٹی میں زیر حراست یرغمالیوں کے خاندانوں نے پیر کے روز غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی آپریشن کو وسعت دینے کے حکومت کے نئے منصوبے پر شدید تنقید کی ہے اور اسے اسے یرغمالیوں کی قربانی قرار دے دیا ہے۔ یرغمالیوں اور لاپتہ افراد کے خاندانوں کے فورم نے ایک بیان میں کہا کہ کابینہ کی طرف سے منظور شدہ یہ منصوبہ اس قابل ہے کہ اسے یرغمالیوں کو قربان کردینے کا ’’ سموٹریچ ۔ نیتن یاہو منصوبہ‘‘ قرار دیا جا سکے۔

غزہ پر قبضہ

یہ رد عمل اس کے بعد سامنے آیا جب اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے گزشتہ شام غزہ میں کارروائیوں کو وسعت دینے کے ایک منصوبے کی منظوری دی ہے جس میں پٹی پر کنٹرول اور آبادی کی رضاکارانہ نقل مکانی کے خیال کو تقویت دینا شامل ہے۔ اس کی آج فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو ایک سیاسی اہلکار نے بھی تصدیق کردی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ اس منصوبے میں کئی چیزوں کے علاوہ غزہ کی پٹی پر قبضہ، زمین پر کنٹرول اور غزہ کے باشندوں کو ان کے تحفظ کے لیے جنوب کی طرف منتقل کرنا شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے میں حماس پر سخت حملے بھی شامل ہیں تاہم ان کی نوعیت کی وضاحت نہیں کی گئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیتن یاہو غزہ کے باشندوں کی ہمسایہ ممالک جیسے مصر اور اردن میں رضاکارانہ نقل مکانی کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کو مسلسل فروغ دے رہے ہیں۔

"دسیوں ہزاروں ریزرو فوجی طلب

نیتن یاہو اور متعدد وزراء پر مشتمل سکیورٹی کابینہ نے غزہ کی پٹی میں حماس کو کمزور کرنے، شکست دینے اور یرغمالیوں کی بازیابی کے اس نئے منصوبے کو متفقہ منظور کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کی کمان نے گزشتہ روز غزہ کی پٹی میں جنگ کو وسعت دینے کے لیے دسیوں ہزار ریزرو فوجیوں کی بھرتی کا اعلان کیا تھا۔ کابینہ نے اپنی میٹنگ کے دوران 18 مارچ سے نافذ اسرائیلی ناکہ بندی کے تحت غزہ میں انسانی امداد کی تقسیم کے امکان پر بھی اتفاق کیا۔

اسرائیلی تجویز مسترد

یاد رہے حماس نے گزشتہ 17 اپریل کو 45 دن کی جنگ بندی کے بدلے 10 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی پر مشتمل اسرائیلی تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔ حماس نے مکمل جنگ بندی اور غزہ سے اسرائیلی انخلاء کے بدلے اپنے پاس موجود تمام یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ایک جامع معاہدے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے برعکس اسرائیل نے تمام یرغمالیوں کی واپسی اور حماس اور دیگر فلسطینی دھڑوں کے ہتھیار ڈالنے پر اصرار کیا تھا اور بدلے میں جنگ کے مکمل خاتمے یا مکمل انخلاء کے بجائے صرف جنگ بندی کا کہا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں