میری گاڑی غزہ کے بچوں کے علاج کے لیے استعمال کی جائے : پوپ فرانسس کی وصیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

گذشتہ ماہ 21 اپریل کو وفات پانے والے پوپ فرانسس کی آخری وصیت نے ایک انسانی ہمدردی پر مبنی پیغام دیا، جو خاص طور پر غزہ کے بچوں سے متعلق تھا۔

پوپ فرانسس نے اپنی وصیت میں درخواست کی کہ "پوپ موبائل" (Pope Mobile) کے نام سے معروف وہ گاڑی، جو انہوں نے 2014 میں بیت لحم کے دورے کے دوران استعمال کی تھی ... اسے غزہ کے بچوں کے علاج کے لیے ایک موبائل میڈیکل کلینک میں تبدیل کی جائے۔

یہ خبر ویٹی کن کے سرکاری نیوز پورٹل "دی ویٹی کن نیوز" نے دی ہے۔

اس منصوبے کے تحت گاڑی کو اس انداز میں دوبارہ تیار کیا جائے گا کہ وہ ایک چلتا پھرتا میڈیکل سینٹر بن جائے، جہاں بچوں کے طبی معائنے، علاج، ویکسینیشن، زخموں کی مرہم پٹی اور فوری ٹیسٹ کی سہولت موجود ہو گی۔

یہ گاڑی خاص طور پر ان علاقوں میں بھیجی جائے گی جہاں صحت کی سہولتیں ناپید ہیں۔

میری گاڑی استعمال کریں

یہ اقدام کیریٹاس سویڈن (Caritas Sweden) کے سیکریٹری جنرل پیٹر برونے اور یروشلم کے رہائشی انطون اصفر کی مشترکہ کوشش کا نتیجہ ہے۔

پوپ فرانسس نے اپنی زندگی کے آخری ایّام میں اس منصوبے کی براہِ راست منظوری دیتے ہوئے کہا تھا کہ ""یقیناً، اگر میری گاڑی بچوں کے فائدے میں آتی ہے تو اسے ضرور استعمال کریں۔"

پیٹر برونے نے ایک بیان میں کہا کہ "یہ گاڑی ہمیں ایسے بچوں تک پہنچنے میں مدد دے گی جنھیں فی الحال کوئی طبی سہولت حاصل نہیں۔ یہ بچے زخموں اور غذائی قلت کا شکار ہیں۔"

انھوں نے مزید کہا "غزہ میں صحت کا نظام تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، اس لیے یہ زندگی بچانے کے لیے ایک حقیقت پر مبنی کوشش ہے"۔

پیٹر برو نے اس اقدام کو ایک انسانی پیغام قرار دیا کہ "دنیا نے غزہ کے بچوں کو نہیں بھلایا، اور یہ باقی دنیا کے لیے بھی ایک دعوت ہے کہ وہ انھیں یاد رکھیں۔"

اس گاڑی کو جدید طبی ساز و سامان سے لیس کیا جائے گا، جس میں فوری ٹیسٹ کرنے والی کٹس، ویکسینز، تشخیصی آلات، زخموں کی مرہم پٹی کی اشیاء، شیل پروف (blast-resistant) پلاسٹک تہہ شامل ہے، تا کہ خطرناک علاقوں میں گاڑی اور طبی عملے کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

یہ گاڑی، جو پوپ فرانسس کی 2014 کی اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کی تاریخی زیارت کی علامت بن چکی ہے، واپس ویٹی کن نہیں گئی بلکہ مقامی طور پر محفوظ رہی۔

پوپ فرانسس کی 12 سالہ قیادت کے دوران، وہ ہمیشہ فلسطینی عوام اور ان کے جائز حقوق کے حامی رہے، اور اپنی زندگی کے آخری لمحوں تک انھوں نے غزہ پر اسرائیلی جنگ کے خاتمے کا مطالبہ جاری رکھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں