غزہ میں قیدیوں کی ہلاکت سے متعلق ٹرمپ کے بیان پر اہلِ خانہ برہم، اسرائیل کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

غزہ میں قید اسرائیلیوں کے اہلِ خانہ نے اس وقت شدید غصے کا اظہار کیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز یہ اعلان کیا کہ غزہ میں موجود مزید تین قیدی ہلاک ہو چکے ہیں۔

غزہ میں قید اسرئیلی قیدی کی والدہ شیرت نیمرودی نے اسرائیلی اخبار ’یدیعوت آحرونوت‘ کی ویب سائٹ ’وائی نیٹ‘ کو بتایا کہ وہ اس بات سے سخت پریشان ہیں کہ قیدیوں کے اہل خانہ سے اہم معلومات چھپائی جا رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان سمیت تین خاندان ایسے ہیں جن کے افراد حماس کے قبضے میں ہیں اور اب تک ان کا کوئی سراغ نہیں۔ ان کے بیٹے کو 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے دوران اغوا کیا گیا تھا اور تب سے اس کی کوئی خبر نہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اعلان وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ہفتہ قبل 24 قیدی زندہ تھے، لیکن اب یہ تعداد کم ہو کر 21 رہ گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ مزید تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ دعویٰ کسی باوثوق ذریعے یا ثبوت کے بغیر کیا۔

تاہم اسرائیلی حکومت کی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت بھی 24 قیدی زندہ ہیں اور حماس سے وابستہ گروہوں کے پاس 35 دیگر قیدیوں کی لاشیں موجود ہیں۔

ٹرمپ کے بیان کے بعد اسرائیلی قیدیوں اور لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کے فورم نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر تازہ ترین معلومات فوری طور پر فراہم کرے۔ فورم نے اسرائیلی حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری جنگ بندی کرے اور تمام قیدیوں کی رہائی کو ممکن بنائے۔

ادھر اسرائیل میں قیدیوں اور لاپتہ افراد کے امور کے رابطہ کار گال ہیرش نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ غزہ میں زندہ قیدیوں کی تعداد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ "حماس کے قبضے میں اس وقت 59 قیدی ہیں جن میں سے 24 زندہ ہیں اور 35 کی موت کی باضابطہ تصدیق کی جا چکی ہے"۔

گال ہیرش نے کہا کہ "تمام متاثرہ خاندانوں کو مسلسل اپنے عزیزوں سے متعلق تازہ ترین معلومات فراہم کی جا رہی ہیں"۔

اسرائیلی فوج کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 7 اکتوبر 2023ء کو حماس کے حملے کے دوران 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا، جن میں سے 58 اب بھی غزہ میں قید ہیں اور ان میں سے 34 کی موت ہو چکی ہے۔ حماس 2014 سے ایک اسرائیلی فوجی کی لاش بھی اپنے پاس رکھے ہوئے ہے۔

ٹرمپ اور اسرائیلی بیانات میں یہ تضاد ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل میں قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر سیاسی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے، خاص طور پر 17 مارچ کے بعد جب اسرائیل اور حماس کے درمیان چھ ہفتے کی جنگ بندی ختم ہوئی تو مزید قیدیوں کی رہائی کا عمل بھی معطل ہوگیا تھا۔

اسرائیل نے 18 مارچ کو غزہ میں دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کر دی تھی۔ حماس نے اپریل کے وسط میں ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ایک مقام نشانہ بنا، جہاں قیدی عیدان الیگزینڈر کو رکھا گیا تھا۔ اس حملے میں اس کی حفاظت پر مامور اہلکار بھی ہلاک ہو گیا، جس کے بعد سے ان کا قیدی سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں