یورپ کے چھ بااثر ممالک اسپین، آئرلینڈ، ناروے، سلووینیا، آئس لینڈ اور لکسمبرگ نے بدھ کے روز اسرائیل کی غزہ پر مکمل فوجی قبضے اور فلسطینیوں کو جبری بےدخل کرنے کے منصوبے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سخت مخالفت کی ہے۔
ان ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں کسی بھی قسم کی آبادیاتی تبدیلی یا زمینی حدود میں رد و بدل بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہو گی، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ غزہ میں کسی بھی نئے فوجی حملے سے فلسطینی شہریوں کے لیے انسانی المیہ مزید سنگین ہو جائے گا، جب کہ ان اسرائیلی قیدیوں کی زندگیوں کو بھی خطرہ لاحق ہے جو تاحال قید میں ہیں۔
اسی سلسلے میں فلسطینی وزیر اعظم محمد مصطفیٰ نے بدھ کے روز عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ غزہ میں جاری "دانستہ انسانی جرم" یعنی "بھوک مسلط کرنے کی پالیسی" کو روکے۔
رام اللہ میں اپنے دفتر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ "غزہ اب باضابطہ طور پر قحط زدہ علاقہ بن چکا ہے"۔
انہوں نے کہاکہ "ہم انسانیت کے ضمیر سے اپیل کرتے ہیں، غزہ کے بچوں کو بھوک سے مرنے نہ دیں، خوراک اور پانی کو جنگی ہتھیار یا دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال نہ ہونے دیں۔ یہ قحط قدرتی آفت نہیں بلکہ ایک منظم انسانی جرم ہے اور اس پر خاموشی دراصل شراکت داری کے مترادف ہے"۔
محمد مصطفیٰ نے اسرائیل کو بہ طور ایک قابض طاقت کے اس المناک صورت حال کا مکمل ذمہ دار قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر بچوں کے کمزور جسم، درد سے کراہتے لاچار چہرے، خیموں اور ملبے سے اٹھتی آہیں، ہسپتالوں کے مناظر یہ سب چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ "غزہ اب واقعی قحط کا شکار ہے"۔
فلسطینی وزیر اعظم نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائے جو شہریوں کے خلاف بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے سے روکتی ہیں۔
محمد مصطفیٰ کی قیادت میں ایک خصوصی وزارتی کمیٹی جنگ کے آغاز 7 اکتوبر 2023ء سے غزہ میں پڑنے والے انسانی و ماحولیاتی اثرات کی نگرانی کر رہی ہے۔
وزیر اعظم نے بتایا کہ عالمی معیار کے مطابق "غزہ کی پوری آبادی اس وقت شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے، جب کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کا محاصرہ مسلسل سخت ہوتا جا رہا ہے اور امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں‘‘۔
اقوام متحدہ اور دیگر امدادی تنظیمیں پہلے ہی خبردار کر چکی ہیں کہ اسرائیل 2 مارچ سے مکمل محاصرہ نافذ کر چکا ہے، جس کی وجہ سے انسانی بحران اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ دفتر (اوچا) نے منگل کو اسرائیل پر "امدادی رسد کو جنگی ہتھیار بنانے" کا الزام لگایا۔
دفتر کے ترجمان ینس لائرکے نے کہا کہ "اب تقسیم کرنے کے لیے کوئی امداد موجود نہیں، کیونکہ امدادی سرگرمیاں مفلوج ہو چکی ہیں"۔
ادھر یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کایا کالاس نے اسرائیلی وزیر خارجہ گیدعون ساعر سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہاکہ "غزہ میں موجودہ انسانی صورت حال مزید برداشت نہیں کی جا سکتی"۔ انہوں نےامدادی سامان کے داخلے کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔
اپریل کے آخر میں اقوام متحدہ کے عالمی فوڈ پروگرام نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے تمام ذخائر خرچ کر چکا ہے۔
اسرائیل نے 18 مارچ کو غزہ میں دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کی تھیں۔
اتوار کے روز اسرائیل کی سکیورٹی کونسل نے ایک متنازع منصوبے کی منظوری دی جس کے تحت غزہ پر مکمل کنٹرول اور وہاں کے باسیوں کو دوسرے علاقوں میں منتقل کرنے کی حکمت عملی طے کی گئی ہے۔
اس منصوبے کے تحت اگر ضرورت پڑے تو امدادی سامان کی تقسیم کی اجازت دی جائے گی، لیکن صرف اس شرط پر کہ "حماس یہ امداد حاصل نہ کرسکے اور اس کی صلاحیتیں تباہ کی جا سکیں"۔
ادھر اقوام متحدہ کی ایجنسیوں اور فلسطین میں کام کرنے والی امدادی تنظیموں کے ایک گروپ نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ امدادی نظام کو ناکام بنا کر "اپنے بنائے گئے فوجی اصولوں کے مطابق امدادی سامان تقسیم کرنے پر مجبور کر رہا ہے"۔
فلسطینی علاقوں میں انسانی امداد سے متعلق ورکنگ گروپ نے بیان میں کہا کہ "یہ منصوبہ بنیادی انسانی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ زندگی کی بنیادی ضروریات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک فوجی دباؤ کی حکمت عملی کے طور پر تیار کیا گیا منصوبہ ہے"۔
-
غزہ: اسرائیلی ناکہ بندی تیسرے ماہ میں داخل، امداد مسلسل بند
یہ اب تک کی طویل ترین ناکہ بندی ہے، لوگوں میں شدید مایوسی
مشرق وسطی -
غزہ سے متعلق نیا مجوزہ منصوبہ آئندہ چند گھنٹوں میں متوقع: العربیہ ذرائع
العربیہ نیوز کے ذرائع نے آج بدھ کے روز بتایا ہے کہ امریکہ کے دباؤ پر غزہ کے حوالے ...
مشرق وسطی -
غزہ میں 24 قیدی زندہ ہیں: ٹرمپ کے پریشان کن تبصرے کے بعد اسرائیل کا بیان
نئی معلومات فوری طور پر فراہم کی جائیں: قیدیوں کے حامی گروپ کا مطالبہ
مشرق وسطی