1945: شام کے بحران کے باعث برطانیہ اور فرانس کے درمیان جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی
چرچل شامیوں پر فرانسیسی بمباری روکنے کے لیے مداخلت پر تیار ہوئے، شام نے 17 اپریل 1946 کو آزادی حاصل کرلی
دوسری جنگ عظیم کے دوران فرانسیسی استعماری طاقت کی حیثیت کو ایک بے مثال دھچکا لگا۔ پچھلی دہائیوں کے دوران دنیا کے بڑے حصوں پر قبضہ کرنے اور انہیں اپنی کالونیوں میں تبدیل کرنے میں کامیابی کے بعد فرانس کو خود جرمنوں کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 1940 میں فرانس کو چند ہفتوں کی جنگ کے بعد ایڈولف ہٹلر کی شرائط پر ہتھیار ڈالنے اور انہیں قبول کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔
یورپی میدان میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے اور فرانسیسیوں کے یوم فتح منانے کے ساتھ ہی فرانس کی کئی کالونیاں آزادی کے مطالبے پر بڑے پیمانے پر مظاہروں کی لپیٹ میں آ گئیں۔ ان مظاہروں کو دبانے کے لیے فرانس نے مظاہرین پر گولی چلا کر خونریز ردعمل کا اظہار کیا۔ اس رد عمل سے بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں۔
یوم فتح کے مظاہرے
یورپی میدان میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے قریب فرانسیسی جنرل اور فرانسیسی عبوری حکومت کے سربراہ چارلس ڈیگال نے جنرل پال بینے (Paul Beynet) کو شام اور لبنان دونوں کی طرف بھیجا تاکہ ان میں مستقل بحری اور فضائی اڈے قائم کرنے کے امکان کا جائزہ لیا جا سکے۔ خطے میں فرانسیسی ارادوں کی خبروں کے پھیلاؤ نے شامی اور لبنانی قوم پرستوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی۔ دمشق میں فرانسیسی موجودگی کے تسلسل کے خلاف شام میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
فرانس میں یوم فتح کی تقریبات کے دوران شام اور لبنان میں آزادی کے مطالبے پر بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔ بعد ازاں یہ مظاہرے پرتشدد کارروائیوں میں تبدیل ہو گئے اور مظاہرین نے فرانسیسی مفادات اور خطے میں مقیم فرانسیسی شہریوں پر حملہ کیا۔ اس کے جواب میں فرانس نے دمشق اور اس کے نواحی علاقوں پر توپ خانے اور فضائی طاقت کے استعمال کی دھمکی دے دی۔
دوسری طرف شام کے کئی علاقوں میں شامیوں اور فرانسیسی فوج کے درمیان مسلح جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ فرانسیسی فوج کی مدد فرانس کے لیے بھرتی کیے گئے سینیگالی فوجیوں نے بھی کی۔ اس کے ساتھ ہی فرانسیسی فوج کے لیے کام کرنے والے شامی اور لبنانی فوجیوں کی ایک بڑی تعداد نے بغاوت کر دی اور ملک میں جھڑپوں کا دائرہ وسیع ہو گیا۔
شام میں برطانوی مداخلت
19 مئی 1945 سے شروع ہونے والے دنوں میں شام نے اپنی تاریخ میں ایک فرانسیسی کالونی کے طور پر بے مثال بحران کا سامنا کیا۔ اس دن فرانسیسی موجودگی کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے جو جلد ہی شامیوں اور فرانسیسی قابض حکام کے درمیان جھڑپوں میں تبدیل ہو گئے۔ فرانسیسی فورسز نے مظاہرین پر گولی چلانے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ اگلے دن سے مظاہروں نے حمص اور حلب کے علاقوں تک وسعت اختیار کر لی۔ اس کے ساتھ ہی فرانسیسی فوج نے مظاہرین پر گولی چلائی اور چند دنوں میں سیکڑوں شامیوں کو مار دیا۔
29 مئی 1945 کو فرانسیسی فوج نے شامی پارلیمنٹ کی عمارت میں داخل ہو کر صدر شکری القوتلی کو گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ چند دنوں میں فرانسیسیوں کی طرف سے براہ راست گولیوں کا نشانہ بننے والے 400 سے زائد شامی مظاہرین کی ہلاکتوں کا تخمینہ لگایا گیا۔
فرار ہونے میں کامیابی کے بعد شامی صدر شکری القوتلی نے برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل کو خط لکھا اور شامیوں کی مدد کے لیے مداخلت کی درخواست کی۔ خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے چرچل نے جنرل برنارڈ پیجٹ (Bernard Paget) کو شامیوں پر فرانسیسی حملوں کو روکنے کے لیے مداخلت کرنے کا حکم دیا۔ 31 مئی 1945 کو جنرل پیجٹ اپنی فوج کے ساتھ مداخلت کرنے پہنچ گئے۔ برطانوی فوج کو فرانسیسی فوج کو دور کرنے کے لیے ضرورت پڑنے پر گولی چلانے کی ہدایات دی گئی تھیں۔ اس مداخلت کی وجہ سے فرانس اور برطانیہ بحرالکاہل کے میدان میں جاپانیوں کے خلاف جاری لڑائیوں کے باوجود جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے۔
2 جون 1945 کو جنرل ڈیگال نے فرانسیسی فوج کو شامیوں پر حملے بند کرنے اور برطانویوں سے دور رہنے کا حکم دیا۔ جولائی 1945 کے اواخر تک فرانسیسی فوج مکمل طور پر لبنانی سرزمین کی طرف پیچھے ہٹ گئی اور اپنے مقامات برطانویوں کے لیے چھوڑ گئیں۔ اکتوبر 1945 کے اوائل سے بین الاقوامی برادری نے شام اور لبنان دونوں کی آزادی کو تسلیم کرنا شروع کر دیا۔ شام اور لبانان بعد میں اقوام متحدہ میں شامل ہو گئے۔
1945 کے اواخر میں فرانس اور برطانیہ شام اور لبنان سے اپنی فوجیں نکالنے کے لیے ایک مفاہمت پر پہنچ گئے۔ اپریل 1946 تک آخری فرانسیسی فوجی شام سے نکل گیا۔ اسی سال جولائی میں آخری برطانوی فوجی نے خطہ چھوڑ دیا۔ اس کے ساتھ ہی شام نے 17 اپریل 1946 کو مکمل آزادی حاصل کرلی۔