قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانے کے تمام ملکوں کے حق کی حمایت کرتے ہیں : سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی عرب نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) نے رکن ممالک کو پر امن مقاصد کے لیے ایٹمی توانائی سے فائدہ اٹھانے، اس کی ترقی، پیداوار اور استعمال کا موقع فراہم کیا ہے۔ اسی تناظر میں سعودی عرب نے زور دیا ہے کہ وہ تمام ممالک کے اس حق کی حمایت کرتا ہے کہ وہ اپنے قدرتی وسائل کو محفوظ اور پُر امن انداز میں استعمال کریں۔

سعودی عرب کی نمائندہ سارہ القوبع نے ایٹمی عدم پھیلاؤ معاہدے کی نظر ثانی کانفرنس کی کمیٹی کے تیسرے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اپنی قومی ایٹمی پالیسی پر قائم ہے۔ یہ پالیسی شفافیت اور قابل اعتماد ہونے کے اعلیٰ ترین معیارات پر مبنی ہے، مملکت ایٹمی ٹیکنالوجی کے پُر امن استعمال کو مختلف شعبوں میں ترقی دینے کے لیے پرعزم ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ سعودی عرب اپنے قومی ایٹمی توانائی منصوبے کے تحت اس ضمن میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ساتھ قریبی تعاون کر رہا ہے۔ سارہ القوبع نے واضح کیا کہ پر امن ایٹمی توانائی کا استعمال نہایت اہم ہے، اور عالمی تعاون، شفافیت، اور معاہدے کے دائرے سے باہر کسی بھی اضافی شرائط کو مسترد کیا جانا چاہیے۔

اسی اجلاس میں سعودی عرب نے زور دیا کہ ایٹمی توانائی کا پُر امن استعمال اور اس کی ترقی اس معاہدے کے بنیادی ستونوں میں سے ہے۔ سارہ القوبع نے کہا کہ سعودی عرب اس شعبے کو غیرمعمولی اہمیت دیتا ہے، کیوں کہ یہ دنیا کی اقوام کے لیے پائے دار ترقی، خوش حالی اور استحکام کے حصول کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

مزید برآں، انھوں نے کہا کہ سعودی عرب اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ اقوام کے درمیان پُر امن تعاون ہی دنیا میں ترقی، خوش حالی اور استحکام کا راستہ ہے، اور اسی لیے ریاض تمام رکن ممالک سے اپیل کرتا ہے کہ وہ معاہدے کی شقوں پر پوری طرح عمل کریں، جن کے تحت ہر رکن ملک کو یہ بنیادی حق حاصل ہے کہ وہ ایٹمی توانائی سے پُر امن مقاصد کے لیے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

سعودی عرب نے یہ بھی واضح کیا کہ ایٹمی ٹیکنالوجی ان رکن ممالک کے لیے بلا کسی اضافی شرط کے دستیاب ہونی چاہیے، اور ایسی کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے جو انھیں پُر امن ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کے حق سے محروم کرے۔ سارہ القوبع نے اس بات پر بھی تنبیہ کی کہ اگر کوئی ملک اس معاہدے کی تشریح کو ایٹمی ٹیکنالوجی کی پُر امن منتقلی روکنے کے بہانے کے طور پر استعمال کرے، تو یہ معاہدے کی اصل روح اور مقاصد کے خلاف ہو گا۔

ریاض نے ترقی یافتہ ممالک سے اپیل کی کہ وہ ترقی پذیر ممالک کو ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی میں درپیش رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے تعاون کریں، اور ایسی کسی بھی قسم کی پابندی سے گریز کریں جو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ جامع ضمانتی معاہدے کرنے والے ممالک کو اس ٹیکنالوجی کے حصول سے روکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں