سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے یمامہ محل میں منگل کے روز ٹیسلا کمپنی کے سربراہ ایلون مسک نے ملاقات کی ہے۔ ملاقات سے پہلے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایلون مسک کا شہزادہ محمد بن سلمان سے تعارف کرایا۔
سعودی عرب کے دورے پر آئے ہوئے 'اوپن اے آئی 'کمپنی کے سربراہ سام آلٹمین نے بھی منگل کے روز ہی ملاقات کی۔ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تاریخی دورہ سعودی عرب کے موقع پر صدر کے ساتھ سعودی عرب آئے ہیں۔
20 جنوری 2024 سے وائٹ ہاؤس میں دوبارہ بطور صدر فائز ہونے والے صدرڈونلڈ ٹرمپ اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر سعودی عرب پہنچے ہیں۔ وہ اپنے چار روزہ غیر ملکی دورے کے دوران سعودی عرب کے ساتھ ساتھ خلیج کے دوسرے ملکوں، متحدہ عرب امارات اور قطر بھی جائیں گے۔
دوسری مدت صدارت سنبھالنے کے بعد صدر ٹرمپ نے غیر ملکی سربراہوں کو فون کرتے ہوئے سب سے پہلے انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ہی بات کی تھی جس کا مطلب سعودی عرب اور اس کی قیادت کو اپنے اہم اور مظبوط شراکت دار کے طور پر ظاہر کرنا تھا۔ یاد رہے اس سے پہلے اپنے پچھلے دور صدارت میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا پہلا غیر ملکی دورہ سعودی عرب کا ہی کیا تھا۔ اب بھی انہوں نے اپنے باضابطہ سرکاری دورے کے لیے سعودی عرب کا انتخاب کیا ہے۔
سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان تعلقات اور قربت کی تاریخ پچھلے 80 سال پر محیط ہے۔ دونوں کے درمیان سیاسی، سفارتی اور معاشی و عسکری تعلقات کی بھی ایک زبردست تاریخ ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت کی حامل ہوچکی ہے۔ ان تعلقات کا مشرق وسطیٰ سے باہر عالمی سطح پر بھی ایک 'امپیکٹ' ہے۔
ریاض میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی جس میں ولی عہد نے ان دو طرفہ تعلقات کے غیر معمولی پن کا ذکر کیا۔