پاکستانی عازمین حج"روڈ ٹومکہ"پروگرام کےتحت ملنےوالی سہولیات پرحکومتِ سعودی عرب کےسپاس گزار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسلام آباد سے روانہ ہونے والے پاکستانی حجاج نے سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے "روڈ ٹو مکہ " پروگرام کے تحت ملنے والی سہولیات پر پر گہری مسرت اور ممنونیت کا اظہار کیا ہے۔ اس اقدام نے ان کے مبارک سفر حج کو آسان، پُرسکون اور خوشگوار بنا دیا۔ روڈ ٹو مکہ سعودی عرب کے ویژن 2030ء کے تحت "خدمتِ ضیوف الرحمن" پروگرام کا ایک اہم ستون ہے، جس کا مقصد حجاج کرام کی خدمت کو نئے انداز میں بہتر بنانا ہے۔

پاکستان کے 83 سالہ ظفر عبدالغفور نے اپنے تاثرات میں کہاکہ "روڈ ٹو مکہ " کی بہ دولت اسلام آباد ایئرپورٹ پر ہمارے سفر کی تمام کارروائیاں تیزی اور سہولت سے مکمل ہو گئیں۔ ہمیں کسی قسم کی رکاوٹ یا تاخیر کا سامنا نہیں کرنا پڑا، جو ہمارے جیسے بزرگ افراد کے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔ انشاء اللہ اب ہمارا سفر مزید آسان اور آرام دہ ہو گا"۔

اسی طرح 81 سالہ حاجی عبدالرؤوف نواز کا کہنا تھا کہ "اسلام آباد ایئرپورٹ پر جو انتظامات، رفتار اور توجہ ہمیں ملی، اس نے ہمارے دلوں سے ان لوگوں کے لیے دعائیں نکلوائیں جو اس شاندار اقدام کے پیچھے ہیں۔ اللہ نے اس کے ذریعے ہمیں حج کا راستہ آسان کر دیا"۔

پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں سعودی عرب کی یہ اہم اقدام یعنی "روڈ ٹو مکہ " نافذ کیا گیاہے۔ اس اقدام کا مقصد حجاج کو ان کے اپنے ملک میں ہی تمام سفری اور سکیورٹی سرگرمیاں مکمل کر کے جدہ یا مدینہ منورہ اترتے ہی براہ راست ان کے رہائشی مقامات تک پہنچانا ہے۔

روڈ ٹو مکہ کا دائرہ کار انتہائی منظم اور مؤثر انداز میں ترتیب دیا گیا ہے:

حجاج کے بایومیٹرک ڈیٹا اور صحت کے تقاضوں کی جانچ،

الیکٹرانک حج ویزا کا اجرا، روانگی کے ایئرپورٹ پر امیگریشن اور کسٹم کلیئرنس،

سامان کی درجہ بندی اور ٹرانسپورٹ اور رہائش کے مطابق اس ک ترتیب دیا جاتا ہے۔ پھر مخصوص بسوں کے ذریعے براہ راست مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ کے ہوٹلوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا سامان بھی بعد ازاں وہاں پہنچا دیا جاتا ہے۔

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ سعودی عرب کی وزارت داخلہ اس سالانہ منصوبے کو مسلسل ساتویں سال کامیابی سے چلا رہی ہے۔ اس عظیم کوشش میں کئی اہم سرکاری ادارے شریک ہیں، جن میں وزارت خارجہ، وزارت صحت، وزارت حج و عمرہ، وزارت اطلاعات، جنرل اتھارٹی برائے سول ایوی ایشن، زکوٰۃ و ٹیکس و کسٹم اتھارٹی، سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اتھارٹی (سَدایا)، جنرل اتھارٹی برائے اوقاف، "خدمتِ ضیوف الرحمن" پروگرام اور محکمہ پاسپورٹس شامل ہیں۔

حج جیسے روحانی سفر کو آرام دہ، باسہولت اور منظم بنانا سعودی قیادت کا وہ خواب ہے جو "روڈ ٹو مکہ " جیسی باکمال اور انقلابی سکیموں کی بدولت اب حقیقت میں ڈھل رہا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا کے سات ممالک کے حجاج کرام ’روڈ ٹو مکہ‘ جیسے پروگرام سے مستفید ہو رہےہیں.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں