سعودی عرب نے اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی ادارے (UNDP) کے ساتھ ایک مشترکہ منصوبے پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد شام میں متاثرہ روٹی کے تنوروں کی بحالی ہے۔ اس منصوبے کی مجموعی لاگت 50 لاکھ ڈالر ہے اور اس پر دستخط برسلز میں منعقدہ یورپی انسانی فورم 2025ء کے موقع پر کیے گئے۔
منصوبے پر دستخط سعودی عرب کی جانب سے شاہ سلمان مرکز برائے امداد و انسانی خدمات کے نگرانِ اعلیٰ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ اور اقوامِ متحدہ کی جانب سے اس کے ترقیاتی ادارے کے ڈائریکٹر آکیم اشٹائنر نے کیے۔ منصوبے کے تحت دمشق کے مضافات، اللاذقیہ، درعا، دیر الزور، حمص، السویداء، حماہ اور حلب کے صوبوں میں واقع 33 متاثرہ سرکاری تنوروں کی مرمت کی جائے گی۔ اس میں بنیادی مرمتی کام، نئی پیداواری لائنوں کی فراہمی، پرانی لائنوں کی مرمت، اور دو متحرک یونٹوں کی بحالی شامل ہے جو متحرک تنوروں کے طور پر کام کریں گے۔
یہ منصوبہ ان علاقوں میں خوراک کے تحفظ کو مستحکم کرے گا جہاں بڑی تعداد میں مہاجرین، واپس آنے والے افراد اور میزبان آبادی بستی ہے۔ اس کے ذریعے متاثرہ سرکاری تنوروں کی بنیادی خدمات کو بحال کیا جائے گا، ان کی پیداواری صلاحیت بڑھائی جائے گی تاکہ مقامی آبادی کی بنیادی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ منصوبے سے روزگار کے 500 نئے مواقع پیدا ہوں گے جن سے مقامی معیشت کو سہارا ملے گا۔
یہ منصوبہ اُن انسانی کوششوں کا تسلسل ہے جو سعودی عرب، شاہ سلمان مرکز کی نمائندگی میں، دنیا بھر میں متاثرہ اقوام کی مدد، غذائی تحفظ کے منصوبوں اور ابتدائی بحالی کے اقدامات کی صورت میں اقوامِ متحدہ کی انسانی تنظیموں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے انجام دیتا آ رہا ہے۔