اسرائیلی ہدایت کار ناداو لاپڈ کا غزہ کے حوالے سے ’نابینا پن‘ کا بیان
فلم کا نام 'یس' اس جواب کا استعارہ ہے جو اسرائیلیوں کو جنگ کی حمایت میں دینا پڑتا ہے
ہدایت کار ناداو لاپڈ نے کہا کہ ان کی نئی فلم یس غزہ میں مصائب کے حوالے سے ان کے ملک کے "نابینا پن" کا ردِعمل ہے۔ یہ فلم ایک موسیقار کے بارے میں ہے جسے اسرائیل کا قومی ترانہ دوبارہ لکھنے کے لیے کہا گیا ہے۔
لاپڈ اس سے قبل اپنے ملک کی خرابیاں بیان کر چکے ہیں جن پر وہ 2019 میں برلن میں گولڈن بیئر اور Ahed's Knee (2021) جیت چکے ہیں۔
فلم یس میں انہوں نے ایک ایسے معاشرے کی عکاسی کی ہے جو سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے کے بعد سے اپنے "تاریک پہلو" کے نیچے دبا ہوا ہے۔
کانز فلمی میلے میں جمعرات کو یس کا پریمیئر ہوا جہاں موجود 50 سالہ ڈائریکٹر نے اے ایف پی کو بتایا، "اسرائیل میں نابینا پن بدقسمتی سے کافی حد تک اجتماعی بیماری ہے۔" (نابینا پن کا مطلب بیماری نہیں بلکہ لوگوں کا حقیقت سے صرفِ نظر کرنے کا رویہ ہے)۔
تقریباً ڈھائی گھنٹے سے زیادہ دورانیے کی یہ فلم وائے نامی ایک موسیقار کی کہانی بیان کرتی ہے جسے اسرائیلی حکام نے ملک کے قومی ترانے کو ایک ایسی صورت دینے کا حکم دیا ہے جو فلسطینیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرنے والے پروپیگنڈے پر مبنی ہو۔
انہوں نے کہا، "سات اکتوبر کو جو کچھ ہوا، ہولناکی اور ظلم کی انتہائی صورت تھی۔ یہ عظیم اسرائیلی خواب کہ ایک دن وہ جاگیں تو پتا چلے کہ فلسطینیوں کا خاتمہ ہو چکا ہے، اب ایک سیاسی پروگرام بن گیا ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ "بہت کم لوگ یہ کہنے کی جرأت رکھتے ہیں کہ غزہ میں جو ہو رہا ہے، وہ ناقابل برداشت ہے" اور یہ کہ "فلسطینیوں کی زندگیوں کی نسبت اسرائیلی زندگیوں کے برتر ہونے کے بارے میں ایک طرح کا اتفاقِ رائے موجود ہے۔"
ایک منظر میں وائے اور اس کی اہلیہ (شائی گولڈمین) اپنے بچے کو کھانا کھلاتے ہوئے اپنے فون پر بےاعتنائی سے نگاہ ڈالتے ہیں جس پر غزہ میں نئے ہونے والے مہلک فضائی حملوں کی اطلاعات نمودار ہوتی ہیں۔
دوسرے منظر میں ایک چھوٹا سا ہجوم ایک چھت پر جمع سر پر اڑتے ہوئے لڑاکا طیاروں کی آواز پر خوشی سے ناچ رہا ہے۔
کانز فلمی میلے کے موقع پر لاپڈ ہالی ووڈ کے بڑے اداکاروں سمیت 380 سے زیادہ اُن فلمی شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے غزہ میں جاری "نسل کشی" پر فلمی صنعت کی خاموشی کی مذمت پر مبنی ایک کھلے خط پر دستخط کیے تھے۔
لاپڈ نے کہا کہ فلم شروع کرنے سے پہلے انہیں کئی رکاوٹوں پر قابو پانا پڑا جس کی عکس بندی "گوریلا موڈ" میں انجام دی گئی کیونکہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت جاری تھی۔
تکنیکی ماہرین اور اداکاروں نے فلم چھوڑ دی اور بعض حامیوں نے اس میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔
ہدایت کار نے کہا، مجھے بتایا گیا کہ لوگ اب ان موضوعات پر سیاسی فلمیں نہیں بناتے۔ وہ جنگ "کے خلاف یا اس کے حق میں مزید فلمیں نہیں دیکھنا چاہتے۔"
مرکزی کردار کرنے والے اداکار ایریل برونز کے مطابق یس کا مطلب صرف یہی واحد جواب ہے جو فنکاروں کو اسرائیل میں دینے کی اجازت ہے جب ان سے جنگ کے لیے ان کی حمایت کے بارے میں پوچھا جائے۔
برونز نے کہا، "فنکاروں کے طور پر ہمارا اولین فرض یہ ہے کہ وہاں نہ جائیں جہاں ہوا چل رہی ہو۔" انہوں نے 2016 میں تل ابیب میں ایک پرفارمنس کے دوران اپنے مقعد میں اسرائیلی جھنڈا لگا کر ہنگامہ برپا کر دیا تھا۔
انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، "ہمیں ذاتی قیمت ادا کرنے کی ضرورت ہے اور اس پوزیشن میں زندہ رہنے کے لیے یہ ایک حقیقی جدوجہد ہے جہاں آپ اپنے ہی ملک میں بالکل الگ تھلگ ہوں۔"
فرانسیسی پروڈیوسروں نے فلم کی حمایت کی اور اس کے کاٹ دار لہجے کے باوجود ایک آزاد اسرائیلی پبلک فنڈ نے بھی حمایت کی۔
یس کا اس سال ستمبر میں یورپی سینما گھروں میں افتتاح ہو گا لیکن ابھی تک کسی بھی اسرائیلی تقسیم کار نے اس کی نمائش کے لیے رضامندی ظاہر نہیں کی۔
لاپڈ نے مزید کہا، "اگر میرے اندر چیزوں کو ہلا دینے کا عزم، امید، فخر اور تخیل نہ ہوتا تو میں اسے بنا ہی نہیں سکتا تھا۔ میرے خیال میں معاشرے کو ایک جھٹکے کی ضرورت ہے اور امید ہے کہ یہ فلم وہی جھٹکا ثابت ہو گی۔"