500 بحری جہاز اور 20 ہزار ملاح پھنسے ہوئے، آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے سے کیا ہوگا؟
امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے بعد جمعہ کو آبنائے کھلنے کی توقع ہے
جنگ کی وجہ سے تقریباً چار ماہ کے تعطل کے بعد توقع ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمت پر دستخط کے ساتھ ہی توانائی کی سپلائی اور بحری جہاز رانی کی اہم شہ رگ آبنائے ہرمز جمعہ کے روز دوبارہ کھول دی جائے گی۔ اس بات کا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے کہ آبنائے کے دوبارہ کھلنے کی صورتحال کیا ہوگی اور صورتحال کو معمول پر آنے میں کچھ وقت لگنے کا امکان کیوں ہے۔
کیا بحری جہاز تیار ہیں؟
ایران نے 28 فروری کو اپنے اوپر امریکی اور اسرائیلی حملے کے آغاز کے بعد سے عملی طور پر آبنائے کو بند کر دیا تھا جہاں سے عام حالات میں عالمی تیل کی پیداوار کا تقریباً 20 فیصد گزرتا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر اہم خام مال جیسے مائع قدرتی گیس اور کھادیں بھی آبنائے سے گزرتی ہیں۔ فرانس پریس ایجنسی کے مطابق بحری جہاز رانی کے شعبے کی سب سے نمایاں تنظیم "آئی سی ایس" کے مطابق تقریباً 500 بحری جہاز اور 20 ہزار ملاح اب بھی خلیج کے پانیوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔
کپلر کمپنی کے منگل کے ڈیٹا کے مطابق جب سے یہ اعلان کیا گیا ہے کہ آبنائے کو جمعہ کو دوبارہ کھولا جائے گا چند بحری جہاز ٹریکنگ سگنلز چلا کر آبنائے سے گزرے ہیں۔ تاہم دیگر بحری جہاز سگنل نشر کیے بغیر وہاں سے گزرے ہیں۔ نظریاتی طور پر پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو اجازت ملتے ہی وہ سفر شروع کر سکتے ہیں۔ بحری جہاز کے مالکان کی ایسوسی ایشن "بیمکو" کے سکیورٹی مینیجر جیکب لارسن نے کہا ہے کہ امکان ہے کہ مہینوں سے رکے ہوئے بحری جہازوں کے عملے نے جہازوں پر باقاعدہ مشقیں کی ہوں گی اور مشینوں اور آلات کی دیکھ بھال کی ہوگی۔
لیکن انہوں نے مزید بتایا کہ گندگی جمع ہونے کی صورت میں پانی کے نیچے جہاز کے نچلے حصے کی صفائی ضروری ہو سکتی ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ آمد و رفت دونوں سمتوں میں ہوگی کیونکہ جہاں ایک طرف خلیج سے جہاز روانہ ہوں گے، وہیں دوسرے جہاز تیل لوڈ کرنے یا سامان اور اشیائے خوردونوش پہنچانے کے لیے اس کی طرف آئیں گے۔
کون گزرنے کے قابل ہوگا؟
بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی کمپنی ’’ اے ایس ایس ایم میرین ‘‘ کے ہیوگو روس نے فرانس پریس کو بتایا کہ چارٹررز، بحری جہاز کے مالکان اور انشورنس کمپنیاں شروع میں احتیاط برتیں گی۔ ان میں سے کچھ مسلح تحفظ کی شرط بھی رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سب سے پہلے گزرنے والے غالباً وہ مالکان ہوں گے جن کا اپنا ذاتی بیڑا ہے۔ وہ سٹاک ایکسچینج میں رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ عملے کے ارکان اضافی مالی مراعات کا مطالبہ بھی کر سکتے ہیں۔
اس حوالے سے "گلوبل رسک مینجمنٹ" کے تجزیہ کار آرنے لوہمین راسموسن نے بات کرتے ہوئے کہا کہ کویت، عراق، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے ممالک، یا ایشیائی ممالک سے منسلک تیل کے ٹینکرز سب سے پہلے گزرنے کی کوشش کریں گے۔ بحری نقل و حمل کے شعبے کے ایک یورپی اہلکار کے مطابق بحری جہاز اس وقت آبنائے میں داخل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں اور امکان ہے کہ انہیں ایک ایک کر کے انتظار کرنا پڑے گا، کیونکہ بندرگاہوں کے گنجان ہونے کا خطرہ ہے۔
پہلے بارودی سرنگیں ہٹائی جائیں گی؟
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے وسط میں سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کے امکانات کے پیش نظر جیکب لارسن کا ماننا ہے کہ بحری جہاز ساحلوں کے قریبی راستوں سے سفر کر سکتے ہیں لیکن وہ معمول کی بحری آمد و رفت کے حجم کو سنبھالنے کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ فرانس اور برطانیہ نے مارچ میں ایک بحری مشن کی تشکیل کا اعلان کیا تھا جس کے کاموں میں جنگ کے بعد بارودی سرنگیں ہٹانے کے آپریشنز کو منظم کرنا شامل ہوگا۔
اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اقدام پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور جنگ کے دوران آبنائے کو کھولنے میں تعاون نہ کرنے پر مغربی ممالک پر تنقید کی تھی، تاہم ایک یورپی ذریعے نے منگل کو بتایا کہ واشنگٹن آبنائے میں بارودی سرنگیں ہٹانے کی صلاحیتیں دستیاب کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
صورتحال کب معمول پر آئے گی؟
آبنائے کو دوبارہ کھولنا صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے کافی نہیں ہے کیونکہ بحری جہازوں کے عملے کو تبدیل کرنا، حملوں سے متاثرہ پروڈکشن چینز کو دوبارہ فعال کرنا اور تیل کے سٹریٹجک ذخائر کو دوبارہ بحال کرنا ضروری ہے۔ "آرگوس میڈیا" کے تجزیہ کاروں کے مطابق ٹینکرز کو یورپ پہنچنے کے لیے ایک ماہ سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ تیل کی برآمدات کی سطح کو جنگ سے پہلے کی حالت میں بحال کرنے کے لیے چار سے چھ ماہ کا وقت درکار ہو سکتا ہے۔
ہیوگو روس نے اس بات پر زور دیا کہ سب کچھ ایک ہی جھٹکے میں معمول پر نہیں آئے گا۔ کچھ کمپنیاں امریکہ اور نائجیریا جیسے دیگر ذرائع سے سپلائی حاصل کرنے کی عادی ہو چکی ہیں۔ انہوں نے نئے تجارتی معاہدے کیے ہیں اور متبادل راستے اپنا لیے ہیں۔
کیا ٹرانزٹ فیس عائد کی جائے گی؟
تہران نے جنگ کے بعد آبنائے میں بحری جہاز رانی پر فیس عائد کرنے کا بارہا ذکر کیا ہے اور اسے نیویگیشن خدمات کے عوض فیس کے فریم ورک میں رکھا ہے۔ تاہم امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پیر کے روز اصرار کیا تھا کہ واشنگٹن طویل مدت میں بغیر کسی ٹرانزٹ فیس کے آبنائے کو دوبارہ کھولنے کی توقع رکھتا ہے۔
یورپی بحری ٹرانسپورٹ اہلکار فیس عائد کرنے کے امکان پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ سمندری قانون کے خلاف ہے۔ وہ اس بات کا خدشہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ اگر یہ فیس عائد کی گئی تو یہ ایرانی پاسداران انقلاب کو جا سکتی ہے جسے اب کئی مغربی ممالک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔