فلسطینی پناہ گزین کیمپوں پر لبنانی ریاست کا مکمل کنٹرول حاصل کرنا فلسطینی صدر محمود عباس کے بیروت کے تین روزہ دورے کا مرکزی عنوان تھا۔ محمود عباس نے لبنانی صدر جوزف عون کے ساتھ اپنی بات چیت کے دوران اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ ریاست کے ہاتھ میں ہتھیاروں کو محدود کرنے کے پابند ہیں اور یہ کہ ریاست سے باہر ہتھیاروں کا دور "ختم ہو چکا ہے۔
نفاذ کمیٹیوں کی تشکیل
حکومتی سرائے میں فلسطینی صدر محمود عباس نے گزشتہ جمعرات کو وزیر اعظم نواف سلام کے ساتھ ایک مشترکہ نفاذ کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق کیا تاکہ کئی مفاہمتوں پر عمل درآمد کی نگرانی کی جا سکے۔ ان میں سب سے اہم لبنانی ریاست کا اپنی تمام سرزمین پر جس میں فلسطینی کیمپس بھی شامل ہیں اپنی خودمختاری کو نافذ کرنے پر اصرار تھا۔ لبنانی ریاست کے دائرہ کار سے باہر مسلح مظاہر کا مکمل خاتمہ اور کیمپوں کے اندر یا باہر فلسطینی ہتھیاروں کے مسئلے کو مکمل طور پر بند کرنا بھی ان مفاہمتوں میں شامل تھا۔ اس سب کا مقصد یہ تھا کہ ہتھیاروں کو صرف ریاست کے ہاتھ میں محدود کیا جا سکے۔
فلسطینی کیمپوں میں ہتھیاروں کے داخلے کی تاریخ 1969 کے قاہرہ معاہدے سے ملتی ہے جو فلسطین لبریشن آرگنائزیشن اور لبنانی حکومت کے درمیان ہوا تھا۔ اس نے فلسطینیوں کو جنوبی لبنان میں فوجی اڈے قائم کرنے اور کیمپوں کے اندر سیاسی کام کرنے کی اجازت دی تھی۔ اس نے ملک کے اندر فلسطینی کارروائی کو قانونی حیثیت دی۔
12 پناہ گزیں کیمپ
لبنان میں 235,000 سے زیادہ رجسٹرڈ فلسطینی پناہ گزین 12 کیمپوں میں تقسیم ہیں جو کئی صوبوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ 57 اکٹھے ہونے کے مقامات بھی ہیں۔ ہتھیار کیمپوں کے درمیان مختلف طریقے سے تقسیم ہیں۔ سوائے شمالی میں نہر البارد کیمپ کے جو مکمل طور پر ہتھیاروں سے خالی ہے۔ یہ کیمپ 2007 سے لبنانی فوج کے زیر انتظام ہے جب لبنانی فوج اور "فتح الاسلام" تنظیم کے درمیان تین ماہ سے زیادہ عرصے تک شدید لڑائیاں جاری رہی تھیں۔ تنظیم فتح الاسلام نے اس وقت ریاست اور فوج کے خلاف ایسے حملے کیے تھے جن میں درجنوں افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔
فلسطینی ہتھیاروں کے لیے مذاکرات
نہر البارد کیمپ میں لڑائیوں سے پہلے لبنانی سیاسی حکام نے ایک مکالمے کی میز پر اتفاق کیا تھا جس میں انہوں نے چھ ماہ کے اندر کیمپوں سے باہر فلسطینی ہتھیاروں کو ہٹانے پر اتفاق کیا تھا۔ پھر 2008 میں دوحہ معاہدہ ہوا جس نے دفاعی حکمت عملی اور کیمپوں کے اندر اور باہر فلسطینی ہتھیاروں کے مقاصد کو طے کیا تھا۔
لیکن یہ تمام فیصلے صرف کاغذ پر ہی رہے اور کئی سال گزر گئے جس کے دوران کیمپوں میں خود فلسطینی دھڑوں کے درمیان تشدد کے کئی دور دیکھے گئے۔ اس کے علاوہ اسرائیل کے ساتھ تصادم میں شرکت کی گئی خاص طور پر حماس کی جانب سے حزب اللہ کی حمایت سے ایسا کیا گیا۔ حالیہ "حرب الاسناد" کے دوران بھی یہی کیا گیا۔
کیمپوں کی توڑ پھوڑ
آج فلسطینی ہتھیاروں کا مسئلہ لبنان پر اسرائیلی جنگ اور ریاست کے اپنے ہاتھ میں ہتھیاروں کو محدود کرنے کے فیصلے کے بعد سنجیدگی سے میز پر موجود ہے۔ پہلے سنجیدہ نتائج اس وقت شروع ہوئے جب فوج نے البقاع اور بیروت میں کیمپوں سے باہر فلسطینی تنظیموں کے فوجی ٹھکانوں کا کنٹرول سنبھال لیا۔
جون کا وسط
ایک حکومتی ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ حکام نے فلسطینی کیمپوں سے ہتھیاروں کو ہٹانے کے لیے نفاذ کے اقدامات تیار کیے ہیں جو آئندہ جون کے وسط میں شروع ہونے کی امید ہے۔ اس سلسلے میں سکیورٹی ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ فوجی انٹیلی جنس نے دو سال سے نعیمہ سرنگوں کے قریب پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین - جنرل کمانڈ کے زیر قبضہ اراضی کے مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے کام کیا ہے۔ اور انہیں دامور کے مقامی باشندوں کو واپس کر دیا گیا ہے۔
گزشتہ دسمبر میں پہلی بار لبنانی فوج کی اکائیوں نے مغربی اور وسطی البقاع اور جبل لبنان میں "پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین - جنرل کمانڈ" اور "فتح انتفاضہ" سے تعلق رکھنے والے کیمپوں اور ٹھکانوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ سامان اور گولہ بارود ضبط کر لیا تھا۔ یہ تمام کیمپ جنوب، شمال اور البقاع میں پھیلے ہوئے پناہ گزین کیمپوں کے دائرہ کار سے باہر تھے۔
عین الحلوہ میں سب سے زیادہ
کیمپوں کے اندر باقی ہتھیاروں کے بارے میں سکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ ہتھیار تمام کیمپوں کے اندر موجود ہیں۔ خاص طور پر ہلکے اور درمیانے درجے کے ہتھیار موجود ہیں اور بھاری ہتھیار عین الحلوہ اور راشدیہ کے کیمپوں میں ہیں۔ ذرائع نے بتایا کیا کہ مختلف فلسطینی دھڑوں کے پاس ہتھیار ہیں لیکن مختلف تعداد میں۔
اپنی طرف سے حکمت عملی کے ماہر اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل خالد حمادہ نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" اور "الحدث ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ حزب اللہ کو حالیہ جنگ میں بھاری نقصان اٹھانے کے بعد لبنانی ریاست اب فلسطینی ہتھیاروں کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے سازگار حالات میں ہے ۔ یہ بات نومبر 2024 میں دستخط شدہ جنگ بندی معاہدے میں پہلے سے ہی ایک شق کے طور پر شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ اور فلسطینی تنظیموں سے غیر قانونی ہتھیاروں کو ہٹانے کے عناصر ابھی تک لبنانی اندرونی حصے میں پختہ نہیں ہیں۔ حزب اللہ اور تہران کے درمیان واضح تعلق ہے۔
ہتھیاروں کی غیر قانونی حیثیت
انہوں نے زور دیا کہ محمود عباس نے دھڑوں کے ہاتھ میں ہتھیاروں سے تمام قانونی اختیار چھین لیا ہے۔ ان دھڑوں سے بھی جو ان کے زیر کمان نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لبنانی ریاست آج فلسطینی صدر کے موقف کے بعد الجھن اور شرمندگی کا شکار ہے۔ اسے تمام غیر قانونی ہتھیاروں کو قبضے میں لینے کے لیے ایک وقت کا منصوبہ تیار کرنا چاہیے جس میں حزب اللہ کے ہتھیار بھی شامل ہیں۔ بصورت دیگر اسرائیل کی جانب سے امریکی حمایت سے میدان میں کشیدگی جاری رہے گی اور مزید تیز ہوجائے گی۔ اسرائیل نے اس ہفتے روزانہ حملے کیے ہیں جو ان کے بقول حزب اللہ کے عناصر اور اس سے متعلقہ تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ اسرائیلی حملے اس کے باوجود ہو رہے ہیں کہ 27 نومبر سے دونوں فریقوں کے درمیان جنگ بندی نافذ العمل ہے۔