غزہ پر اسرائیلی حملوں میں شدت، بچوں سمیت کم از کم 16 افراد ہلاک
ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 54 ہزار کے قریب
غزہ کے امدادی کارکنان نے کہا ہے کہ بدھ کے روز محصور فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی حملوں میں سولہ افراد ہلاک ہو گئے جہاں اسرائیل نے رواں ماہ اپنی کارروائیاں تیز کر دی ییں۔
شہری دفاع کے ترجمان محمود بصل نے اے ایف پی کو بتایا، "غزہ کی پٹی پر صبح سے اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں سولہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔"
انہوں نے بتایا کہ ان میں سے نو کا تعلق فوٹو جرنلسٹ اسامہ العربید کے خاندان سے تھا اور وہ غزہ کے شمال میں اپنے گھر پر صبح دو بجے ایک حملے میں ہلاک ہو گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ العربید زخمی ہوئے تھے۔ وہ ایک مقامی فلم پروڈکشن تنظیم میں ویڈیو گرافر اور ایڈیٹر ہیں۔
وسطی غزہ میں ایک ہی خاندان کے مزید چھے افراد ایک حملے میں ہلاک ہو گئے جس میں "بچوں سمیت" 15 افراد زخمی بھی ہوئے۔
ایک اور شخص جو بصل کے مطابق عام شہری تھا، جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے قریب ہلاک ہو گیا۔
اے ایف پی کی طرف سے رابطہ کرنے پر اسرائیلی فوج نے حملوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ قطعی درست معلومات کے بغیر ایسا نہیں کر سکتی۔
اسرائیل نے اس ماہ غزہ میں اپنا حملے تیز کر دیئے ہیں اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ "حماس کی شکست" تک حملے جاری رکھے گا۔
غزہ کی وزارتِ صحت نے پیر کے روز کہا، جنگ میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 53,977 ہو گئی ہے جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔