اسرائیلی ڈرون حملے میں جنوبی لبنان کا میونسپل ملازم جاں بحق

بنجمن نیتن یاھو کی حکومت کی جانب سے فائر بندی کے باوجود نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری، جاں بحق ملازم پانی کی ترسیل کے دوران نشانہ بنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

جنوبی لبنان کے علاقے نبطیہ الفوقا میں جمعرات کے روز اسرائیلی ڈرون حملے میں ایک میونسپل ملازم ہلاک ہو گیا۔ لبنانی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق، یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب مذکورہ ملازم سرکاری ڈیوٹی انجام دینے کے لیےموٹر سائیکل پر جا رہاتھا۔

خبر ایجنسی نے بتایا کہ بلدیہ نبطیہ الفوقا کا یہ ملازم جنگل علی الطاہر میں موجود ایک کنویں سے گھروں کو پانی کی فراہمی کے لیے جا رہا تھا کہ اسے ایک دشمن ڈرون نے نشانہ بنایا۔ ڈرون سے داغے گئے میزائل کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے حزب اللہ کے ایک "دہشت گرد" کو نشانہ بنایا جو ایک ایسے مقام کی دوبارہ تعمیر کر رہا تھا جہاں سے مبینہ طور پر پارٹی کی دفاعی اور فائرنگ کی کارروائیاں چلائی جاتی تھیں۔ یہ دعویٰ فرانسیسی خبر رساں ادارے "فرانس پریس" کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔

یہ واقعہ اس حملے کے دو دن بعد پیش آیا جس میں یاطر گاؤں میں ایک شخص جاں بحق ہوا تھا۔ اسرائیل کا کہنا تھا کہ وہ بھی حزب اللہ کا رکن تھا۔

یاد رہے کہ 27 نومبر 2024ء سے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان امریکی و فرانسیسی ثالثی سے فائر بندی کا معاہدہ نافذ ہے، جو ایک سال سے زائد جاری رہنے والی کشیدگی کے بعد ستمبر 2024ء میں کھلی جنگ کی شکل اختیار کر چکی تھی۔

معاہدے کے تحت حزب اللہ کے جنگجوؤں کو دریائے لیتانی کے جنوب (اسرائیل کی سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے) سے پیچھے ہٹنا تھا، جبکہ اس علاقے میں لبنانی فوج اور اقوام متحدہ کی امن فورس "یونیفیل" کی تعیناتی کو مضبوط بنایا جانا تھا۔

لبنان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ وہ اپنی جاری جارحیت بند کرے اور ان مقامات سے انخلاء کرے جہاں وہ تاحال موجود ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں