وٹکوف کی تجویز کی بنیاد پر غزہ میں جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں: مصر، قطر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

مصر اور قطر نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے نقطہ نظر کو قریب لانے اور اختلافی نقاط کو حل کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ کوششیں مشرق وسطیٰ کے امریکی نمائندے سٹیو وٹکوف کی تجویز پر مبنی ہیں تاکہ اس تجویز کی بنیاد پر بالواسطہ مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکیں۔

مصر اور قطر نے اپنے مشترکہ بیان میں امریکہ کے ساتھ ہم آہنگی میں غزہ مذاکرات میں درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے کوششیں تیز کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے تمام فریقوں سے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے اور فلسطینی علاقے میں بحران کو ختم کرنے کے لیے ثالثوں کی کوششوں کی حمایت کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے غزہ میں 60 دنوں کی ایسی عارضی جنگ بندی تک جلد از جلد پہنچنے کی امید کا بھی اظہار کیا جو غزہ میں مستقل جنگ بندی کے معاہدے کا باعث بنے گی اور اس سے علاقے میں غیر معمولی انسانی بحران کے خاتمے اور سرحدوں کو کھولنے اور انسانی امداد کی فراہمی کی اجازت ملے گی۔ انہوں نے جنگ کو مکمل طور پر ختم کرنے اور گزشتہ مارچ میں قاہرہ میں منعقدہ ہنگامی عرب سمٹ کی منظور شدہ منصوبہ کے مطابق غزہ کی تعمیر نو شروع کرنے کی امید کا اظہار کیا۔

تعطل کا شکار مذاکرات

واضح رہے تقریباً 20 ماہ سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے مذاکرات میں اب تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ جنگ کے دوران نومبر 2023 میں سات روز اور 19 جنوری تا 18 مارچ 2025 میں چند روز کے لیے وقفہ آیا ہے۔ اسرائیل نے 18 مارچ کو جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ پر بمباری دوبارہ شروع کردی تھی۔

حماس نے کل ہفتہ کو اعلان کیا کہ اس نے وٹکوف کی تجویز کو مسترد نہیں کیا اور اسے مذاکرات کے لیے قابل قبول قرار دیا۔ تاہم اس نے وٹکوف کے موقف کو ناانصافی اور مکمل طور پر اسرائیل کے حق میں متعصبانہ قرار دیا۔

اپنے جواب میں حماس نے مطالبہ کیا کہ زندہ دس یرغمالیوں اور معاہدے میں شامل اٹھارہ لاشوں کی رہائی کی ترتیب اور وقت میں تبدیلی کی جائے ۔ یرغمالیوں اور لاشوں کی حوالگی 60 روز کے دوران 6 قسطوں میں ہو۔ حماس نے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کا بھی مطالبہ کیا کہ وہ ان خطوط پر واپس چلی جائے جہاں وہ مارچ میں پچھلی جنگ بندی کے خاتمے سے پہلے تعینات تھی۔

اسی طرح حماس نے جنگ کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے امریکی ضمانتیں حاصل کرنے پر اصرار کیا۔ یہ ضمانتیں تنازع کا اہم نکتہ ہیں۔

حماس کا مطالبہ ناقابل قبول

دوسری طرف وٹکوف نے حماس کے جواب کو قطعی طور پر ناقابل قبول قرار دیا ہے ۔ انہوں نے "ایکس" پر کہا کہ حماس کو ہماری پیش کردہ تجویز کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کرنا چاہیے جو ہم اگلے ہفتے سے شروع کر سکتے ہیں۔

واضح رہے وٹکوف کی تجویز میں غزہ میں قید 10 زندہ یرغمالیوں اور 18 متوفی افراد کو دو قسطوں میں رہا کرنے کا کہا تھا۔

دوسری طرف فلسطینی علاقے میں انسانی بحران سنگین ہو گیا ہے۔ امداد کی کمی کے درمیان اقوام متحدہ کی تنظیموں نے تصدیق کی ہے کہ غزہ میں داخل ہونے والے ٹرکوں کی تعداد آبادی کی ضروریات کا صرف 9 فیصد پورا کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں