اسرائیلی فوج کا غزہ میں 700 میٹر طویل زیر زمین سرنگ تباہ کرنے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے غزہ میں ایک زیر زمین سرنگ کو تباہ کر دیا ہے، جس کی گہرائی تقریباً 30 میٹر اور لمبائی 700 میٹر تھی۔

فوج کے مطابق یہ کارروائی ساتویں بریگیڈ اور اسپیشل آپریشنز انجینئرنگ یونٹ کے اہلکاروں نے مشترکہ طور پر انجام دی۔ اسرائیلی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سرنگ مبینہ طور پر "دہشت گردی" کے مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی تھی۔

اسرائیلی اخبار "یروشلم پوسٹ" کے مطابق اس آپریشن کے دوران درجنوں افراد کو ہلاک کیا گیا، جب کہ 100 سے زائد مبینہ انفرا اسٹرکچر اہداف کو بھی تباہ کیا گیا۔

یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی فوج غزہ میں اپنے فوجی آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہے۔

ادھر العربیہ اور الحدث کو باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ غزہ میں سکیورٹی کی صورتحال بری طرح بگڑ چکی ہے اور حماس کا سکیورٹی کنٹرول ختم ہو چکا ہے۔

اتوار کے روز ان ذرائع نے بتایا کہ امدادی سامان لے جانے والی گاڑیاں اور عام گھروں پر اب مسلح گروہ اور چوروں کے جتھے قابض ہو رہے ہیں۔ لوگ لوٹ مار کا شکار ہو رہے ہیں اور شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل چکا ہے۔

ذرائع کے مطابق حماس نے اس افراتفری پر قابو پانے کے لیے قبائلی سرداروں سے مدد مانگنے کی کوشش کی ہے تاہم شدید قحط اور افلاس کی فضا میں ان کی کوششیں بے اثر ثابت ہوئی ہیں۔

اسی دوران اطلاعات ملی ہیں کہ حماس کی سکیورٹی ناکامی کے نتیجے میں شدت پسند گروہ دوبارہ منظم ہو رہے ہیں اور نئے افراد کو اپنی صفوں میں شامل کر رہے ہیں۔

ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ حماس کی حکومت کا بڑا حصہ غیر فعال ہو چکا ہے، کیونکہ کئی اہم رہنما اور کارکن ہدفی حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ اس وقت وزارتیں، ادارے اور بلدیاتی نظام مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ حماس کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے اور وہ اپنے ملازمین کو تنخواہیں دینے سے قاصر ہے، کیونکہ مختلف محکموں سے حاصل ہونے والی آمدنی اور ٹیکس بند ہو چکے ہیں۔ کئی کارکن اب دوسرے کام کر رہے ہیں یا امدادی تنظیموں پر انحصار کر رہے ہیں۔

تین ماہ سے جاری محاصرہ

پیر کے روز "غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن" نے تقریباً تین ماہ طویل شدید محاصرے کے بعد رفح کے مغربی علاقے میں ایک امدادی مرکز سے سامان کی تقسیم شروع کی۔

تاہم منگل کو تقسیم کے دوران افراتفری اور بھگدڑ دیکھنے میں آئی۔ اس کے علاوہ امدادی گوداموں اور خوراک لے جانے والی گاڑیوں پر قبضے اور چوری کی متعدد وارداتیں بھی رپورٹ ہو چکی ہیں۔

واضح رہے کہ مارچ سے جاری تازہ فوجی کارروائی کے بعد اسرائیل نے غزہ پر سخت ترین محاصرہ نافذ کر رکھا ہے، جس کے تحت طبی و غذائی امداد کی فراہمی بھی روک دی گئی ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات حماس پر دباؤ ڈالنے اور مذاکرات کی میز پر اسے رعایت دینے پر مجبور کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں