سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مسئلہ فلسطین کے پرامن حل اور دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی بین الاقوامی کانفرنس کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ یہ کانفرنس رواں ماہ نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں منعقد ہوگی۔ یہ بات سعودی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں بتائی گئی ہے۔ یہ بیان سعودی وزیر خارجہ کی گوتریس سے ٹیلیفونک گفتگو کے بعد سامنے آیا ہے۔ قبل ازیں سعودی عرب نے فرانس کے ساتھ مشترکہ صدارت میں نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں مسئلہ فلسطین کے پرامن حل اور دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے اس بین الاقوامی کانفرنس کی تیاری کے لیے ایک اجلاس منعقد کیا تھا تھا جس میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی بڑی تعداد نے شرکت کی تھی۔
سعودی وزارت خارجہ کی مشیر منال رضوان نے افتتاحی سیشن میں اپنی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب فرانس کے ساتھ شراکت میں اس کانفرنس کو ایک منصفانہ اور پائیدار امن کی طرف ایک تاریخی موڑ بنانا چاہتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ قبضے کا خاتمہ اور ایک آزاد، قابل عمل فلسطینی ریاست کا قیام ہی خطے میں سلامتی اور استحکام حاصل کرنے کا واحد راستہ ہے۔ منال رضوان نے واضح کیا کہ جنگ کا خاتمہ، یرغمالیوں اور قیدیوں کی رہائی اور جامع سلامتی صرف اس صورت میں حاصل کی جا سکتی ہے جب تنازع کی جڑوں کو حل کرنے کے لیے ایک قابل اعتماد سیاسی منصوبہ پیش کیا جائے۔ انہوں نے فلسطینی قیادت کی طرف سے شروع کی گئی اصلاحات کو بھی سراہا اور فلسطینی حکومت کے لیے بین الاقوامی برادری کی حمایت کی اہمیت پر زور دیا۔